دنیا بھر میں غیر قانونی تارکین وطن نہ صرف معاشی دباؤ پیدا کر رہے ہیں بلکہ ممالک کی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں، اور پاکستان کے مؤقف کی حالیہ بین الاقوامی تائید سامنے آئی ہے۔
برطانوی جریدے دی گارڈین کے مطابق برطانیہ میں بھی پناہ گزینوں کا نظام قابو سے باہر ہو چکا ہے اور ملک میں برادریوں میں تقسیم پیدا کر رہا ہے، اب پناہ گزینوں کو مستقل نہیں بلکہ عارضی حیثیت دی جائے گی اور ہر 2 یا اڑھائی سال بعد دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔
مزید پڑھیں: پاکستان سمیت دیگر ممالک میں سکھ رہنماؤں کا قتل، گارڈین نے بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق کردی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طریقے سے آنے والوں کو مستقل رہائش کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
Asylum system in UK ‘out of control’ and dividing country, home secretary says
Shabana Mahmood to unveil new proposals modelled on Denmark’s controversial system.@alihamzaisb pic.twitter.com/eGN8gkcfsU— Media Talk (@mediatalk922) November 17, 2025
برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی ہجرت زبردست دباؤ ڈال رہی ہے، قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور نظام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ رہائش اور مالی امداد کو اختیاری بنایا جا رہا ہے تاکہ کام کرنے والوں کی حمایت ختم کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: بھارت نے برطانوی خاندانوں کو غلط لاشیں بھیج دیں
وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کی سب سے وسیع اور جامع اصلاحات ہیں۔ پاکستان میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین دہشتگردی اور اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے، اور ملکی سلامتی کے پیشِ نظر افغان شہریوں کی واپسی تیزی سے جاری ہے۔














