آئینی عدالت نے اپنے پہلے فل کورٹ اجلاس میں اہم فیصلے کیے ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک آئینی عدالت کے اپنے الگ رولز تشکیل نہیں پاتے، سپریم کورٹ کے رولز 2025 آئینی عدالت میں بھی نافذ العمل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: نئی گج ڈیم کیس: وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل جاری
مزید فیصلہ کیا گیا کہ آئینی عدالت کا کم سے کم بینچ 2 رکنی ہوگا اور صرف وہ وکلا دلائل دے سکیں گے جن کے پاس سپریم کورٹ کا لائسنس موجود ہو۔ یہ اقدامات آئینی عدالت کے بروقت اور مؤثر آغاز کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔














