ترقی نہیں، پسماندگی پر زیادہ فنڈ ملے گا، ریحام خان کی این ایف سی فارمولے پر تنقید

جمعرات 20 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان کی سابق اہلیہ اور پاکستان رپبلک پارٹی کی بانی ریحام خان نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے فارمولے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام صوبوں کو ترقی کے بجائے پسماندگی برقرار رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

ریحام خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے اس کا 57.5 فیصد صوبوں کو دے دیا جاتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کس کو کتنا ملے گا اس کے لیے نمبرز دیے جاتے ہیں۔ جس میں سے 100 میں سے 82 نمبر آبادی، 10 نمبرز پسماندگی جبکہ صرف 5 نمبر ریونیو کے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی صوبہ زیادہ پسماندہ دکھائی دیتا ہے تو اسے زیادہ حصہ ملتا ہے، جب کہ زیادہ آمدن پیدا کرنے والے صوبوں کو نسبتاً کم فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام میں صوبوں کے لیے ترغیب یہ بنتی ہے کہ وہ آبادی میں اضافہ اور پسماندگی برقرار رکھنے پر زیادہ انحصار کریں تاکہ وفاقی محاصل میں ان کا حصہ بڑھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ’یادِ ماضی عذاب ہے یا رب‘، ریحام خان نے دلہن بنے ماضی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کیا کہا؟

ان کا کہنا تھا کہ جتنا زیادہ کسی صوبے میں پسماندگی ہوگی، اتنے ہی زیادہ نمبر ملیں گے، اور جتنا زیادہ وہ کمائے گا اس کے نمبر کم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صوبے میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کام نہ کرنے سے زیادہ وسائل حاصل ہوتے ہیں، جب کہ بہتر کارکردگی دکھانے پر حصہ کم پڑ جاتا ہے۔

ریحام خان نے دعویٰ کیا کہ اسی فارمولے کے باعث صوبوں میں آبادی کے بے قابو اضافے اور شہروں میں بڑھتے ہوئے رش کی حوصلہ افزائی بالواسطہ طور پر ہوتی ہے، کیونکہ زیادہ آبادی کی بنیاد پر زیادہ مالی حصہ ملتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp