خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے حطار انڈسٹریل زون میں قائم مصنوعی اور مضر صحت دودھ بنانے والی فیکٹری پکڑ لی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 93 فیصد دودھ مضرصحت قرار، مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن
کارروائی ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید کی نگرانی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر رات گئے کی گئی۔
بدنام زمانہ نیٹ ورک رنگے ہاتھوں گرفتار
ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق پنجاب کے ضلع بہاولنگر سے تعلق رکھنے والا جعلی دودھ تیار کرنے والا گروہ فیکٹری میں مصنوعی دودھ بنا رہا تھا۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سخت کارروائیوں کے بعد یہ گروہ خیبر پختونخوا منتقل ہو گیا تھا جہاں کے پی فوڈ اتھارٹی کی بروقت کاروائی نے ان کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔
کیمیکلز اور مضر صحت مواد برآمد
کارروائی کے دوران فیکٹری سے مصنوعی دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، خام مال اور مشینری قبضے میں لی گئی۔ ڈی جی کے مطابق فیکٹری میں بھاری مشینوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر مضر صحت دودھ تیار کیا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں 26 منرل واٹر برانڈز انسانی صحت کے لیے غیرمحفوظ قرار
مزید براں مضر صحت دودھ سے بھرے ٹینکرز بھی موقع پر پکڑے گئے۔
روزانہ ایک لاکھ لیٹر مصنوعی دودھ کی سپلائی
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق یہ نیٹ ورک مبینہ طور پر روزانہ تقریباً ایک لاکھ لیٹر مصنوعی دودھ اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں کو سپلائی کر رہا تھا۔
ایک اور کارروائی میں فیکٹری سے 50 ہزار لیٹر کیمیکل ملا دودھ بھی برآمد ہوا۔
فیکٹری سیل، ایف آئی آر درج، گرفتاریاں
کارروائی کے دوران منیجر سمیت 3 سے 4 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔
فیکٹری کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ تمام مشینری سرکاری تحویل میں لے لی گئی۔
فوڈ اتھارٹی ٹیم معطل
ڈی جی کے مطابق غفلت برتنے پر متعلقہ فوڈ اتھارٹی ٹیم کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان دشمن عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور مصنوعی دودھ بنانے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا تعاون قابل تحسین
ڈائریکٹر جنرل نے کارروائی میں تعاون کرنے پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کا شکریہ بھی ادا کیا۔
کارروائیاں جاری
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے وژن اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کی ہدایات کے مطابق صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: دودھ میں 8 فیصد پانی ملانے کی اجازت، خیبرپختونخوا میں ایسا کیوں ہوا؟
ڈائریکٹر جنرل حلال فوڈ اتھارٹی نے بھی واضح کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔














