پی ٹی ایم کی فنڈنگ سے یورپ و امریکا میں خفیہ سرگرمیوں تک ’را ‘ کی گھناؤنی سرگرمیاں بے نقاب

جمعرات 27 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے خطّے سے مغرب تک پھیلے خفیہ اثر و رسوخ کے نیٹ ورک سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف منظم مہمات، بیرونِ ملک احتجاج اور ڈائسپورا کو متاثر کرنے کیلئے ایک مربوط سرگرمی طویل عرصے سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بڑھتی ناکامیوں پر مودی حکومت کا بڑا فیصلہ، پراگ جین نئے سربراہ مقرر

ابتدائی معلومات کے مطابق اس نیٹ ورک کا اہم کردار رحمان اللہ لکانوال ہے، جو افغان نیشنل آرمی کا سابق افسر رہا اور 2021 میں امریکا منتقل ہونے کے بعد مبینہ طور پر ’را‘ کا فعال سہولت کار بن گیا۔

بیرونِ ملک منتقل ہونے کے بعد اس نے نہ صرف پی ٹی ایم تک مالی رسائی کا راستہ بنایا بلکہ یورپ کے مختلف شہروں میں افغان شہریوں کو پاکستان مخالف احتجاج کے لیے منظم کرنے کا بھی کردار ادا کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں را کی اُس وسیع اسٹریٹیجی سے جڑی ہوئی ہیں جس کا مقصد مختلف ملکوں میں موجود کمیونٹیز کو متاثر کرنا، پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھانا ہے۔

اسی تناظر میں کینیڈا اور امریکا میں سکھ کارکنوں کے ٹارگٹ کلنگ کیسز میں بھارت کے کردار پر عالمی سطح پر سوالات اٹھے، جس نے را کی بیرونِ ملک کارروائیوں کے طریقہ کار کو مزید بے نقاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کو 114 سال قید کی سزا، انسدادِ دہشت گردی عدالت کا فیصلہ

تجزیہ کاروں کے مطابق کابل، واشنگٹن، برسلز اور یورپ کے دیگر مراکز میں سامنے آنے والی مربوط کارروائیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان کے خلاف سرگرم اثر و رسوخ کا یہ نیٹ ورک کئی سطحوں پر کام کر رہا ہے، جس میں فنڈنگ، پروپیگنڈا، احتجاج کی تنظیم اور ڈائسپورا کی ذہنی و سیاسی سمت متعین کرنا شامل ہے۔

رحمان اللہ لکانوال جو افغان نیشنل آرمی کا سابق افسر ہے، 2021 میں امریکا منتقل ہونے کے بعد مبینہ طور پر ’را‘ کا اہم سہولت کار بن گیا۔ اس کے ذریعے پی ٹی ایم تک فنڈز پہنچائے گئے اور یورپ میں افغان شہریوں کو پاکستان مخالف احتجاج کے لیے منظم کیا گیا۔ یہ تمام سرگرمیاں ’را‘ کے اُن عالمی خفیہ آپریشنز سے مماثلت رکھتی ہیں جن میں کینیڈا اور امریکا میں سکھ کارکنوں کے قتل کے الزامات بھی شامل کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’را‘ کا یہ بیرونِ ملک اثر و رسوخ کا نیٹ ورک پاکستان کی ساکھ اور قومی سلامتی کو ہدف بنانے کے مسلسل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ کابل سے لے کر واشنگٹن اور برسلز تک پھیلی اس منظم کارروائی میں ڈائسپورا کو متاثر کرنے اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دینے کے واضح شواہد سامنے آتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں