ٹرمپ نے بائیڈن کے آٹوپین سے دستخط شدہ تمام احکامات منسوخ کر دیے

ہفتہ 29 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو جو بائیڈن کے دور میں آٹوپین سے دستخط شدہ تمام ایگزیکٹو احکامات، اعلامیے اور ہدایات منسوخ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے خود دستخط نہیں کیے اور یہ اقدام غیر قانونی تھا۔

ماہرین قانون کے مطابق، صدر کے دستخط کا طریقہ قانونی اعتبار سے اہم نہیں بلکہ منظوری ضروری ہے، لہٰذا ٹرمپ کے اعلان پر عدالتوں میں چیلنجز متوقع ہیں۔ اس فیصلے سے بائیڈن دور کے کئی پالیسی اقدامات، بشمول ماحولیاتی، تعلیمی اور امیگریشن قوانین، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرانسپرینسی ایکٹ پر دستخط، کیا ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے؟

قانونی اور سیاسی نتائج

ٹرمپ کے اعلان نے طویل عرصے سے قائم قانونی اصولوں کو چیلنج کیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامی قانون میں ایگزیکٹو ایکشن کی قانونی حیثیت اس کی منظوری اور نیت پر مبنی ہوتی ہے، دستخط کے طریقے پر نہیں۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر بائیڈن کی منظوری کی تصدیق نہ ہو تو ٹرمپ کے تمام احکامات کی منسوخی عدالت میں چیلنج کا شکار ہو سکتی ہے۔

اس سیاسی اقدام سے ٹرمپ پچھلی انتظامیہ کو غیر معتبر بنانے اور اوول آفس میں طاقت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اسے قانونی بحران قرار دے رہے ہیں اور ری پبلکن اسے ’طریقہ کار کی اصلاح‘ سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان

بین الاقوامی تعلقات پر اثرات

ٹرمپ کے احکامات کی منسوخی بین الاقوامی تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ بائیڈن دور کے معاہدے اور پالیسی وعدے اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جن میں ماحولیاتی تعاون، پناہ گزینوں کی آمد، طلبہ ویزے، تجارتی سہولیات اور سیکیورٹی تعاون شامل ہیں۔

غیر ملکی حکومتیں دوطرفہ معاہدوں اور تعاون کے فریم ورک کی وضاحت طلب کر سکتی ہیں، اور واشنگٹن میں اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے طویل المدتی پالیسی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟