گیلپ کے بدھ کو جاری کردہ ایک تازہ سروے کے مطابق امریکا میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے حامی اب اس بات پر متفق ہوتے جا رہے ہیں کہ مخالفین کے خلاف اشتعال انگیزاورسخت سیاسی زبان حد سے بڑھ چکی ہے۔
سروے میں اگرچہ ہر جماعت کے حامی زیادہ تر الزام مخالف پارٹی پر ڈالتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ سیاسی بیانات میں شدت اور سختی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں صحت کے نظام میں نسلی تعصب پھیل رہا ہے، سروے رپورٹ کیا کہتی ہے؟
گیلپ کے تجزیہ کار جیفری جونز کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ تعداد میں امریکی سمجھتے ہیں کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں ہی مخالفین پر تنقید کے لیے اشتعال انگیز زبان کا حد سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔
Larger majorities of Americans than in the past believe that both the Democratic and Republican parties and their supporters have gone too far in using inflammatory language to criticize their opponents. pic.twitter.com/ohzZFtEgov
— Gallup (@Gallup) December 3, 2025
سروے میں 69 فیصد شرکا نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی اور اس کے حمایتی حد سے بڑھ چکے ہیں، جو 2011 کے مقابلے میں 16 پوائنٹس زیادہ ہے۔
اسی طرح 60 فیصد نے کہا کہ ڈیموکریٹس بھی اپنے بیانیے میں حد سے تجاوز کر رہے ہیں، جو 9 پوائنٹس کا اضافہ ہے۔
گیلپ کے مطابق دونوں جماعتوں کے ووٹرز تقریباً مکمل اتفاق سے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری پارٹی نے حدود پار کی ہیں، اس ضمن میں 94 فیصد ڈیموکریٹس ریپبلکنز کو اور 93 فیصد ریپبلکنز ڈیموکریٹس کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
مزید پڑھیں:58 فیصد امریکی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حامی، سروے رپورٹ
اس کے برعکس، زیادہ تر لوگ اپنی ہی سیاسی جماعت کے بیانیے کو حد سے بڑھا ہوا تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں، اور 2011 کے مقابلے میں اس رجحان میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
یہ سروے یکم سے 16 اکتوبر کے درمیان اس واقعے کے چند ہفتے بعد ہوا، جب قدامت پسند کارکن چارلی کرک کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
گیلپ نے 2011 کے اُس سروے جیسے سوالات استعمال کیے، جو گیبریئل گففرڈز پر حملے کے بعد کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں کی بڑی تعداد امریکا کیوں چھوڑنا چاہتی ہے؟
ایک اور سوال میں 71 فیصد امریکیوں نے سیاسی تشدد کا ذمہ دار انتہاپسند خیالات کے آن لائن فروغ کو قرار دیا، 64 فیصد نے سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کو قصوروار ٹھہرایا، جبکہ 52 فیصد نے ذہنی صحت کے نظام کی کمزوری کو سبب بتایا۔
اس کے مقابلے میں 45 فیصد نے آسان اسلحہ تک رسائی کو ذمہ دار کہا اور ایک تہائی سے بھی کم افراد نے منشیات، عمارتوں کی سیکیورٹی یا تفریحی صنعت کے تشدد کو سبب سمجھا۔














