بنگلہ دیش اسٹوڈنٹ رائٹس کونسل نے جمعے کے روز ڈھاکا یونیورسٹی میں احتجاجی ریلی اور اجتماع منعقد کیا، جس میں بنگلہ دیش بھارت سرحد پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ہاتھوں بنگلہ دیشی شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں کی شدید مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے بھارت سے جبری بیدخل کی گئی حاملہ خاتون کو بی ایس ایف کے حوالے کر دیا
راجو مجسمہ کے قریب اجتماع کے بعد طلبہ رہنماؤں نے کیمپس کی مختلف شاہراہوں پر احتجاجی مارچ کیا جو شاہ باغ پر جاکر اختتام پذیر ہوا۔ شرکا نے نعرے لگائے،’ سرحد پر لوگ مر رہے ہیں، عبوری حکومت کیا کر رہی ہے؟، دہلی یا ڈھاکا؟ ڈھاکا، ڈھاکا، بھارتی جارحیت نامنظور۔‘

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے صدر ناظم الحق نے بی ایس ایف کی جانب سے بنگلہ دیشی شہریوں کی ہلاکتوں کے سلسلے کو بے رحمانہ اور مسلسل ظلم قرار دیا۔ انہوں نے چپائنوباب گنج کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو شہریوں کو حراست میں لے کر رات بھر تشدد کیا گیا اور بعد میں قتل کر کے ان کی لاشیں دریائے پدما میں پھینک دی گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 29 نومبر کو چواڈانگا میں شہیدُال نامی شخص جبکہ 4 دسمبر کو پٹگرام میں سبوج نامی نوجوان کو قتل کیا گیا، محض ایک ہفتے میں 4 ہلاکتیں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سیاسی تشدد میں خطرناک اضافہ
طالب علم رہنما نے دعویٰ کیا کہ 2009 سے اب تک سرحد پر 600 سے زائد بنگلہ دیشی مارے جاچکے ہیں، جن میں کئی کو تشدد کے بعد سرحدی باڑ سے لٹکا دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلسل ہلاکتوں کے باوجود کسی حکومت نے مؤثر سفارتی اقدامات نہیں کیے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں خوف اور عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی ہائی کمشنر کو 48 گھنٹے کے اندر دفتر خارجہ طلب کر کے حالیہ واقعات کی وضاحت طلب کی جائے۔ ان کا کہنا تھا، ’اگر ایسا نہ ہوا تو طلبہ برادری بھارتی ہائی کمیشن کی طرف بڑے پیمانے پر احتجاجی مارچ کا اعلان کرے گی۔‘
یہ بھی پڑھیں: شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹولپ صدیق کو بنگلہ دیش میں کرپشن کیس میں سزائیں
جنرل سیکریٹری ثناالحق نے بھی بی ایس ایف کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ برسوں سے بھارتی اثر و رسوخ سرحدی ہلاکتوں اور 2009 کی بی ڈی آر بغاوت جیسے واقعات میں نظر آتا ہے، مگر 15 برسوں میں سیکڑوں اموات کے باوجود مضبوط سفارتی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر سرحد پر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا تو ملک گیر طلبہ مزاحمتی تحریک شروع کی جائے گی۔ اجتماع کی نظامت جوائنٹ سیکریٹری رکیبُ الاسلام نے کی، جبکہ ڈھاکا یونیورسٹی، ڈھاکا کالج اور میٹرو پولیٹن یونٹس کے رہنما بھی شریک تھے۔














