اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ہائیکورٹ جج کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے 2 لڑکیوں کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جج کے بیٹے ابوذر اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان صلح طے پا گئی ہے، جس کے بعد متاثرہ خاندانوں نے عدالت میں ملزم کو معاف کرنے کا بیان ریکارڈ کرایا۔
اسی کی توقع تھی👇👇
اسلام آباد اسکوٹی حادثے میں جاں بحق 2 لڑکیوں کے خاندانوں نے ملزم کو معاف کردیا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں گرفتار ملزم ابوذرکو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت کے سامنے متاثرہ… pic.twitter.com/1NthOyyT9B— Zafar Naqvi (@ZafarNaqviZN) December 6, 2025
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ فیملیز کے بیانات درج کیے گئے۔
ایک لڑکی کے بھائی نے ذاتی طور پر بیان دیا، جبکہ اس کی والدہ کا بیان آن لائن ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری لڑکی کے والد بھی عدالت میں پیش ہوئے اور صلح کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کیا۔
بیانات درج ہونے کے بعد عدالت نے ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
مقدمے میں صلح کے بعد قانونی کارروائی کے اگلے مراحل آگے بڑھیں گے۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ جج کے بیٹے نے اسکوٹی پر جانے والی 2 لڑکیوں کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیا تھا، جس کے بعد عوام ملزم کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔













