ایم کیو ایم پاکستان کی دھڑے بندی یا مختلف گروپس کی کہانی خاصی پیچیدہ اور پرانی ہے جو کہ پارٹی کے بانی کی بیرون ملک سے لاتعلقی کے بعد زیادہ شدت اختیار کر گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار پر حملہ، ’یہ سیاست چمکانے آئے ہیں‘، شہریوں کا الزام
اصولی طور پر ایم کیو ایم پاکستان میں اتحاد کی کوششیں مرکزی دھڑے بندی پر سبقت لے چکی ہیں لیکن اندرونی طور پر اختلافات اور رسہ کشی اب بھی موجود رہتی ہے۔
اس وقت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کنوینیئر اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہیں جبکہ سابق میئر کراچی اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار بھی پارٹی میں اہم مقام حاصل کر چکے ہیں ایم کیو ایم مرکز بہادر آباد ایک مرکزی پارٹی ہے جو عام انتخابات اور حکومتی اتحاد کا حصہ رہی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد کے مطابق ایم کیو ایم کی حالیہ سرگرمیوں میں کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دینے یا نئے صوبوں کا مطالبہ شامل ہے جس کا مقصد سندھ کے شہری علاقوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کے فیصلے سمجھ سے بالاتر، پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی قابل مذمت ہے، ایم کیو ایم
ان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار دیکھنے میں آیا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اجلاسوں، تنظیمی تبدیلیوں اور فیصلوں پر سینیئر رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2023 میں ایم کیو ایم پاکستان، پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) اور تنظیم بحالی کمیٹی جس کی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار کرتے تھے نے مل کر دوبارہ ایک ہونے کا اعلان کیا تھا۔ وہ دراصل سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی کمزور ہوتی سیاسی قوت کو بحال کرنے کی ایک بڑی کوشش تھی۔
ضم ہونے کے بعد مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار دونوں کو ایم کیو ایم پاکستان کے اہم عہدے دیے گئے جس سے یہ تینوں دھڑے ایک مرکزی جماعت کا حصہ بن گئے۔ تاہم اندرونی طور پر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں اور تنظیمی ڈھانچے میں اہم عہدوں کے لیے ردو بدل اور کشمکش کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف دھڑے نہ بھی چاہیں تب بھی ان کا ساتھ رہنا مجبوری بن چکا ہے۔
جہاں تک دھڑوں کی بات ہے تو یہ اپنی طاقت دکھاتے بھی رہیں گے اور کارکنوں کے ذریعہ دباؤ بھی بڑھاتے رہیں گے تا کہ ہر دھڑا پارٹی پر اپنی گرفت قائم کر سکے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و ممبر قومی اسمبلی حسان صابر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں کوئی اختلافات نہیں ہیں نظریاتی طور پر سب اکٹھے ہیں لیکن گروپ بندیاں کون سی سیاسی جماعت میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے ایسا کچھ ہوتا ہے تو یو ٹیوبرز وی لاگ بنانے بیٹھ جاتے ہیں کیوں کہ انہیں ویوز ملتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سندھ کی تقسیم کا معاملہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا، ایم کیو ایم کیا چاہتی ہے؟
حسان صابر کے مطابق پالیسی پر یا کچھ فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایم کیو ایم قیادت میں کوئی گہری خلیج ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہونے والی پریس کانفرنس اس بات کے ثبوت ہے کہ خالد مقبول صدیقی کے ساتھ مصطفیٰ کمال سمیت پوری لیڈر شپ نظر آرہی ہے۔
حسان صابر کا کہنا ہے کہ یوٹیوبر اس پر اپنی ویوز بٹورتے رہیں لیکن ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحد ہے اور رہے گی، ایم کیو ایم ایک جمہوری جماعت ہے اور اس میں ہر ممبر کو اختلاف رائے رکھنے کا پورا حق بھی ہے اور موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم مشکل حالات سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے اور ان حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات، 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لوگ ہم پر تنقید کرتے ہیں جسے ہم کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔














