عازمین حج کے لیے دہلی سے مکہ ٹرین، فزیبیلیٹی پر کام شروع

بدھ 24 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان حج کا فریضہ انجام دینے کے لیے سعودی عرب کے شہر مکہ جاتے ہیں، ان کے سفر کو آسان بنانے کے لیے ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان ٹرین سروس کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، منصوبہ بھارت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا کی باہمی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

ہندوستان، پاکستان کے حجاج ہوائی جہاز کے ذریعے حج کے لیے مکہ جاتے ہیں، یہ طریقہ آسان تو ہے لیکن مہنگا بہت ہے اور اس کے ذریعے زیادہ سامان لانا اور لے جانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

حجاج کو سفری سہولیات دینے کے لیے ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان ٹرین سروس کا منصوبہ متحدہ عرب امارات اور امریکا کی مشاورت کے ساتھ طے پایا ہے۔ عازمین حج کے لیے دہلی سے مکہ جانے والی ٹرین ہندوستان اور سعودی عرب تعلقات میں گیم چینجر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

فزیبلٹی اور فوائد

ہندوستان سے سعودی عرب تک ڈائریکٹ ٹرین کی فزیبلٹی کو دیکھا جائے تو یہ منصوبہ خطے میں شاندار اثرات مرتب کر سکتا ہے۔  پاکستان، ایران، افغانستان اور دیگر ممالک سے گزرتی ہوئی تیز رفتار ٹرین کا منصوبہ ایک تو ٹیکنالوجی میں ترقی اور دوسرا تمام ملکوں کے حجاج کے لیے سفری آسانی پیدا کرے گا۔

اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ عازمین حج کو ہوگا کیونکہ اس منصوبے سے ان کے سفری اخراجات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

ہوائی جہاز کے مقابلے میں ٹرین زیادہ کشادہ اور آرام دہ سفر فراہم کرتی ہے، سفر کے دوران حجاج اپنی عبادات بہ آسانی ادا کر سکیں گے۔

ٹرین کا سفری ماحول ہوائی جہاز کے مقابلے میں قدرے مختلف ہوتا ہے، اس سفر میں حجاج ایک دوسرے کو اپنے واقعات اور روحانی تجربات بہ آسانی سنا سکیں گے۔

تیز رفتار ٹرین کا یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو سفر میں آسانی کے ساتھ ساتھ وقت کی بچت کو بھی ممکن بنایا جا سکے گا۔

جیوگرافیکل چیلنجز

اس منصوبے کی تکمیل کے دوران جہاں اتنی سہولیات مہیا کی جا سکیں گی، وہیں انفراسٹرکچر کو بنانے کے لیے کئی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

بھارت سے سعودی عرب ٹرین سروس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کافی سرمایہ کاری اور وسیع منصوبہ بندی کی ضرورت ہو گی۔

سب سے بڑھ کر زمین خریدنا، ٹریک بچھانا، اور منصوبے میں شامل ممالک کے درمیان تعاون کی فضا قائم کرنا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم ترین عمل ہوگا۔

 ابھی  یہ منصوبہ بہت ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں درپیش آنے والے چیلنجز پر بھی غور ہو رہا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج اس ٹرین کے لیے مخصوص طور پر ٹریک بچھانا اور اس ٹریک کو کئی ممالک سے گزارنا جس میں جغرافیائی مسائل اور سیاسی مسائل بھی آسکتے ہیں۔

یہ منصوبہ دنیا کی مشکل ترین ریلوے لائنز کے منصوبوں میں سے ایک ثابت ہوگا، گرم جلتے صحرا، سطح مرتفع اور دشوار گزار پہاڑی راستوں پر مشتمل یہ ریلوے لائن بھارت سے پاکستان میں بلوچستان کے راستے سے ہوتے ہوئے ایران اور افغانستان کے بعد سعودی عرب کے گرم صحراؤں سے گزرتی ہوئی مکہ تک پہنچے گی۔

اس منصوبے کے تحت پورے سفر میں مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے۔ زائرین کی حفاظت کے لیے ٹرینوں کے اندر اور اسٹیشنوں پر مضبوط حفاظتی اقدامات کو نافذ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اس سے قبل 2سال پہلے چین نے عازمین حج کے لیے اسی طرح کے ٹرین ٹو مکہ کا منصوبہ بنایا تھا، جس کو تمام مسلمان ممالک نے سراہا تھا۔ اب بھارت بھی اسی طرح کے منصوبے پر امریکا کی مدد سے خطے میں عمل درآمد کرانا چاہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون سا ملک اس منصوبے کو پہلے مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟