آبادی میں کمی: چین کا بچوں کی پیدائش تقریباً مفت بنانے کا فیصلہ

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی نیشنل ہیلتھ کیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق حکومت آئندہ سال سے زچگی سے متعلق جیب سے ادا کیے جانے والے تمام طبی اخراجات برداشت کرے گی۔

یہ اقدام نوجوان جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین: تمام تر حکومتی سہولیات کے باوجود چینی مزید بچے پیدا کرنے کو تیار نہیں، کیوں؟

انتظامیہ نے بتایا کہ 2026 تک چین کا ہدف یہ ہے کہ زچگی سے متعلق تمام پالیسی کے تحت آنے والے طبی اخراجات کی ملک بھر میں مکمل ادائیگی کی جائے، جن میں حمل کے دوران طبی معائنے یعنی پری نیٹل چیک اپ بھی شامل ہوں گے۔

سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے حمل کے دوران طبی معائنوں کے اخراجات کی کوریج بہتر بنائی جائے گی اور اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ زچگی کے عمل میں ’کوئی  ادائیگی جیب سے نہ ہو۔‘

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیجنگ حکومت ملک میں مسلسل کم ہوتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: چینی جوڑے کے ہاں سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں والی ’روسی‘ بچی کی پیدائش کا حیران کن واقعہ

چین کی آبادی میں 2022 میں کئی دہائیوں بعد پہلی بار کمی آئی تھی اور یہ رجحان 2024 تک جاری رہا۔

ماہرین آبادیات کے مطابق شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کے باعث یہ رجحان آئندہ بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افرادی قوت میں کمی اور بزرگ آبادی میں اضافے سے پہلے ہی مقروض مقامی حکومتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

چین میں شرحِ پیدائش میں کمی کی ایک بڑی وجہ 1980 سے 2015 تک نافذ رہنے والی ایک بچے کی پالیسی رہی ہے، جب کہ تیز رفتار شہری ترقی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا میں زچگی کی اموات میں اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

بچوں کی نگہداشت اور تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات، روزگار میں غیر یقینی صورتحال اور سست ہوتی معیشت نے بھی نوجوانوں کو شادی اور خاندان شروع کرنے سے دور رکھا ہے۔

چین کے کچھ صوبوں، جن میں جیلن، جیانگ سو اور شینڈونگ شامل ہیں، پہلے ہی ایسے اقدامات متعارف کرا چکے ہیں جن کے تحت زچگی کے اخراجات تقریباً مفت کر دیے گئے ہیں۔

چین نے مارچ میں کہا تھا کہ وہ تیزی سے بڑھتی بزرگ آبادی اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر ’فعال‘ پالیسیوں کے ذریعے ردِعمل دے گا، جن میں بچوں کی نگہداشت کے لیے سبسڈیز اور پری اسکول تعلیم کو مفت بنانا شامل ہے۔

اس سے قبل بھی حکام زچگی کی رخصت میں توسیع، مالی و ٹیکس سہولتوں اور رہائشی سبسڈیز کے ذریعے جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کر چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟