عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے بھارت کے دورے کے موقع پر شدید بدانتظامی اور افراتفری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کو ایونٹ شروع ہونے کے تقریباً 20 منٹ بعد ہی اسٹیڈیم چھوڑنا پڑا۔
تاہم ناقص انتظامات اور ہجوم پر قابو نہ پانے کی وجہ سے حالات بگڑ گئے۔ اس صورتحال میں صرف چند مشہور شخصیات ہی لیونل میسی کے ساتھ تصویر بنوانے میں کامیاب ہو سکیں جس پر منتظمین کو سخت عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبالر لیونل میسی کو بھارت میں رسوائی کا سامنا، بھارتی سیاستدان نے تمام حدیں پار کردیں
اسی دوران بنگالی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ سبھاشری گنگولی کو بھی سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے لیونل میسی کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ کئی صارفین نے اس معاملے پر اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
صورتحال کے بعد سبھاشری گنگولی کے شوہر اور معروف فلم ڈائریکٹر راج چکرورتی نے فیس بک پر ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو افراتفری ہوئی وہ بالکل ناقابلِ جواز اور انتہائی تکلیف دہ تھی۔ یہ فٹبال اور فٹبال سے محبت کرنے والے بنگالیوں کی توہین تھی۔ شہر اس سے پہلے بھی ایسٹ بنگال اور موہن باگان کے میچوں کے دوران ایسی صورتحال دیکھ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبالر لیونل میسی کو بھارت میں رسوائی کا سامنا، بھارتی سیاستدان نے تمام حدیں پار کردیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کے ان واقعات سے آگاہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے ایونٹ کے لیے منصوبہ بندی میں اتنی بڑی کوتاہی کیسے ہو گئی؟ کیا منتظمین میسی کی مقبولیت سے واقف نہیں تھے؟
انہوں نے مزید کہا کہ کل کے ایونٹ میں مدعو مہمانوں میں بنگالی فلم انڈسٹری کی نمائندگی کرتے ہوئے سُبھاشری گنگولی بھی شامل تھیں۔ بدقسمتی سے اس افراتفری کے درمیان اب انہیں محض وہاں موجود ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے میسی کے ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔
اہلیہ کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ٹرول کر رہے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ کسی شخص اور خاص طور پر کسی عورت کے ساتھ جیسا سلوک کرتے ہیں اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ آنے والی نسلیں اسی رویے سے سیکھیں گی۔ احتجاج اور تذلیل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور اس فرق کو سمجھنا اور سمجھانا بے حد ضروری ہے۔
ان کے مطابق اسٹیڈیم میں جو بدنظمی ہوئی اس کا اسٹیڈیم کے اندر ہونے والے کسی بھی واقعے کا سُبھاشری سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ سب کی طرح وہ بھی ایک فٹبال لیجنڈ کو دیکھنے گئی تھیں۔ وہ بھی اس واقعے سے دل برداشتہ ہیں۔ کل کا یہ انتشار بنگال کی توہین تھا، بنگالیوں کی توہین تھا۔














