موٹروے اجتماعی زیادتی کیس میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 2 مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھنے کے فیصلے پر امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے پاکستان کے نظامِ انصاف کی تعریف کی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں ایلون مسک نے پاکستان کو شاباشی دیتے ہوئے لکھا کہ مغربی ممالک میں ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔
ایلون مسک کا یہ تبصرہ لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں عدالت نے موٹروے اجتماعی زیادتی کیس کے مرکزی ملزمان عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے ان کی اپیلیں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے ’موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس‘ میں ملزمان کی اپیل کا فیصلہ سنا دیا
لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ، جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔
عدالت نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت سمیت تمام دیگر سزائیں بھی برقرار رکھیں۔
سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور دفاع کے مؤقف کو بھی مناسب اہمیت نہیں دی، لہٰذا سزائے موت کالعدم قرار دے کر ملزمان کو رہا کیا جائے۔
Some good news to come out of Pakistan. pic.twitter.com/MZq2Fx7dfm
— Rupert Lowe MP (@RupertLowe10) June 3, 2026
تاہم پروسیکیوٹر راحیلہ شاہد نے اپیلوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کا فیصلہ قانون اور میرٹ کے مطابق تھا۔
ان کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد موجود ہیں، اس لیے اپیلیں مسترد کی جائیں۔
بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے پروسیکیوٹر جنرل فرہاد علی شاہ نے کہا کہ ریاست کے لیے اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا ایک بڑا چیلنج تھا، جبکہ محکمہ استغاثہ نے ملزمان کو سزا دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: مریخ پر انسانی آبادی ایلون مسک کو کیسے دنیا کا سب سے طاقتور ارب پتی بنائے گی؟
انہوں نے بتایا کہ تفتیش کا آغاز متاثرہ خاتون کی نشاندہی پر کیا گیا، مجرم عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد سے ملا، جبکہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے دن رات محنت کر کے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 9 ستمبر 2020 کو لاہور کے گجرپورہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف مقدمے میں شکست کا سامنا
بعد ازاں 20 مارچ 2021 کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 1 نے دونوں ملزمان کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
ٹرائل کورٹ نے ڈکیتی کے جرم میں دونوں مجرموں کو 14،14 سال قید اور ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی تھی۔
علاوہ ازیں متاثرہ خاتون کے بچوں کو اغوا کرنے پر عمر قید اور گاڑی کو نقصان پہنچانے پر 5، 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
دونوں مجرموں نے 25 مارچ 2021 کو انسدادِ دہشتگردی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جسے اب مسترد کر دیا گیا ہے۔














