بھارت میں مسلم دشمن کارروائیاں تیز: مدرسہ مسمار، مذہبی مقامات پر تنازع بڑھ گیا

جمعہ 5 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی جریدے دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے خلاف کارروائیوں پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں ایک مدرسہ مسمار کر دیا گیا جبکہ 2 دیگر مدارس کو بند کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: مودی کو بڑا تجارتی دھچکا، جاپان نے بھارتی آموں کی درآمد معطل کردی

مدرسہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارہ 2000 سے رجسٹرڈ ہے اور اس کے تمام قانونی دستاویزات درست ہیں۔ اسی دوران ہندو رکشا دل کے سربراہ یوگی ادیتا ناتھ سے مطالبہ کیا گیا کہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب دہرادون میں ایک مسجد پر پابندی کے بعد انتہا پسند عناصر نے مسجد کے باہر ہندو مذہبی رسومات کا آغاز کر دیا، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کے دورِ حکومت میں ہندوتوا نظریے کے اثرات مضبوط ہوئے ہیں، جس کے باعث اقلیتی برادریاں خود کو دباؤ کا شکار محسوس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp