بھارتی جریدے دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے خلاف کارروائیوں پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں ایک مدرسہ مسمار کر دیا گیا جبکہ 2 دیگر مدارس کو بند کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: مودی کو بڑا تجارتی دھچکا، جاپان نے بھارتی آموں کی درآمد معطل کردی
مدرسہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ادارہ 2000 سے رجسٹرڈ ہے اور اس کے تمام قانونی دستاویزات درست ہیں۔ اسی دوران ہندو رکشا دل کے سربراہ یوگی ادیتا ناتھ سے مطالبہ کیا گیا کہ دارالعلوم دیوبند کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
بھارتی جریدے دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت میں مسلمانوں، کے خلاف کارروائیوں پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں سرکاری زمین پر قبضے کے الزام میں ایک مدرسہ مسمار کر دیا گیا جبکہ 2 دیگر مدارس کو بند کر دیا گیا۔@KulAalam pic.twitter.com/IM9uKWxAiD
— Media Talk (@mediatalk922) June 5, 2026
دوسری جانب دہرادون میں ایک مسجد پر پابندی کے بعد انتہا پسند عناصر نے مسجد کے باہر ہندو مذہبی رسومات کا آغاز کر دیا، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کے دورِ حکومت میں ہندوتوا نظریے کے اثرات مضبوط ہوئے ہیں، جس کے باعث اقلیتی برادریاں خود کو دباؤ کا شکار محسوس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیوں کا مقصد مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔














