سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی ملک بدری سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے 28 ترک شہریوں کی جانب سے ملک بدری میں مہلت کے لیے دائر درخواست میں فوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی ملک بدری کے معاملے پر سماعت کی، جس میں 28 ترک شہریوں نے ملک بدری میں مہلت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:زندہ شخص کی ’تدفین‘ کا سرٹیفکیٹ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج
عدالت نے حکومت کی جانب سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی ملک بدری کے اقدامات پر عملدرآمد روکنے کی فوری استدعا مسترد کر دی، جبکہ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ عدالت حکومت کو غیر ملکیوں کی ملک بدری سے کیسے روک سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر درخواست گزار ترک شہری ہیں تو وہ افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں کیا کر رہے تھے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ترک شہری ہیں مگر افغان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم تھے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ وہ ترکی سے کب پاکستان آئے تھے۔
وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار تقریباً 45 سال قبل تبلیغ کے مقاصد کے لیے پاکستان آئے تھے۔ جسٹس عبدالمبین لاکھو نے سوال کیا کہ کیا درخواست گزاروں کے پاس ترک شہریت سے متعلق کوئی دستاویزات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ ہائیکورٹ میں ایم ڈی کیٹ کے خلاف طلبہ کی درخواستیں، پی ایم ڈی سی اور دیگر سے جواب طلب
وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزاروں کے پاس کسی قسم کی دستاویزات موجود نہیں ہیں اور انہوں نے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کو 4 ماہ کی مہلت دی جائے تاکہ اس دوران وہ اپنے کاغذات بنوا سکیں۔
اس پر جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیے کہ ایسے معاملے میں عدالت کچھ نہیں کر سکتی اور درخواست گزار ترک قونصلیٹ یا سفارت خانے سے رجوع کر سکتے ہیں۔













