بنگلہ دیش: 10 بڑے کاروباری گروپس اور حسینہ واجد خاندان کی 67 کروڑ روپے سے زائد کی جائیداد ضبط

جمعرات 18 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی عارضی حکومت نے 10 بڑے کاروباری گروپس اور برطرف وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خاندان کی مبینہ جائیدادیں ضبط کی ہیں، جن کی مالیت قریباً 67 ہزار کروڑ روپے بنتی ہے۔

مزید پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی حوالگی، بھارت نے بنگلہ دیش کی درخواست پر غور شروع کردیا

بنگلہ دیش کے مؤقر روزنامے ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے مطابق ملک میں 56 ہزار کروڑ روپے اور بیرون ملک قریباً 11 ہزار کروڑ روپے کے اثاثے منجمد اور ضبط کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 104 مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جن میں سے کچھ کے فیصلے بھی ہو چکے ہیں۔

حکومت نے بیرون ملک سے اثاثے واپس لانے کے لیے قانونی درخواستیں بھیجی ہیں اور منی لانڈرنگ روکنے کے قوانین میں ترمیم کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: شیخ حسینہ واجد کی سزا پر بنگلہ دیشی عوام کیا کہتے ہیں؟

سرکاری بینک کے گورنر نے کہا ہے کہ ایس عالم گروپ کی دائر درخواست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور اثاثوں کی واپسی کا عمل عام طور پر 4 سے 5 سال میں مکمل ہوتا ہے۔ لندن میں سابق وزیر اراضی کے کیس میں بھی امید ہے کہ مقدمہ بلا اعتراض حل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

          کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

64 سال کی عمر میں بھی ٹام کروز اتنے فِٹ کیسے ہیں؟ اداکار نے اپنی فٹنس کا راز بتا دیا

امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

          کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی