پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب میں متحرک نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 2011 کے بعد پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری، بہت سے سینیئر سیاست دان پی ٹی آئی کی بڑھتی مقبولیت دیکھ کر عمران خان سے جا ملے۔ پھر 2013 سے 2018 تک تحریک انصاف نے وفاق اور پنجاب میں بہترین اپویشن کا رول ادا کیا۔

اسمبلیوں کے اندر اور باہر عوامی ایشوز پر احتجاج کیا جاتا، قانون سازی کے معاملات پر بھی حکومت کو ٹف ٹائم ملتا۔ اور پھر 2018 میں پاکستان تحریک انصاف وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں برسراقتدار آگئی، لیکن ساڑھے 3 سال کے عرصے میں عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو گرا دیا گیا۔

مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت تک کا سفر، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے کیا نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے؟

پھر کچھ عرصے بعد کرپشن الزامات پر پارٹی کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے ردعمل میں 9 مئی کا واقعہ ہوگیا، اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں، جن میں سے کچھ ابھی تک پابند سلاسل ہیں۔

وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب میں متحرک ہونے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

’ایسے لگ رہا ہے جیسے پی ٹی آئی پر غیراعلانیہ پابندی عائد ہے‘

اس حوالے سے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار عمر دارز گوندل نے کہاکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اس وقت جیلوں میں ہے، پنجاب میں شاہ محمود قریشی اور یاسمین راشد نے لیڈر کرنا تھا لیکن دونوں قید میں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی رہا تو ہوگئے مگر وہ سامنے نہیں آرہے اور پی ٹی آئی کی کسی بھی مرکزی تقریب میں نہیں جاتے، جبکہ چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ خود سزا یافتہ ہیں۔

’اس وقت ایسے لگ رہا ہے جیسے پی ٹی آئی پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، اڈیالہ جیل کے باہر تو پی ٹی آئی کے کارکنان جاتے ہیں لیکن پنجاب میں بڑے لیول پر کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔‘

انہوں نے کہاکہ پنجاب میں اب تک صرف علامتی احتجاج ہی ہوئے ہیں، پی ٹی آئی اس وقت اسمبلی کے اندر بھی کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کررہی۔

پی ٹی آئی کے متحرک نہ ہونے کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں، شیخ امتیاز

پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے شیخ امتیاز نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ بات درست نہیں کہ پی ٹی آئی پنجاب میں متحرک نہیں، ہاں اس حد تک بات ٹھیک ہے کہ حالیہ مہینوں میں پارٹی کم متحرک دکھائی دی ہے، جس کی بہت سے سی وجوہات ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی کو اس وقت قانونی اور سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن اس کے باوجود منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر پنجاب سے ہی کارکنان جمع ہوتے ہیں۔

شیخ امتیاز نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے لوگ جمعرات کو اڈیالہ جیل جاتے ہیں، ہماری جماعت پر ظلم کے پہاڑ توڑے جانے کے باوجود لیڈران اور کارکنان عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کوئی بھی سیاسی گہماگہمی کرنے کی کوشش کرتی ہے تو لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، اور مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے ارکان اس لیے اب پنجاب اسمبلی میں نہیں آتے کہ ایوان کی کوئی اہمیت ہی باقی نہیں رہی۔ پہلے اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کو نااہل کیا گیا، اور اب موجودہ اپوزیشن لیڈر پر بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسمبلی کے اندر بات کرنے پر اپوزیشن ارکان کا داخلہ بند کر دیا جاتا ہے، اس ساری صورتحال کے باوجود بھی اگر کارکنان اڈیالہ جیل کے باہر اکٹھے ہو رہے ہیں تو یہ ہماری کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے باہر آئیں گے تو پی ٹی آئی پنجاب میں پھر سے متحرک ہو جائےگی۔

’پی ٹی آئی کا سیاسی کردار سکڑتا ہوا نظر آرہا ہے‘

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز خیبرپختونخوا کو بنایا ہوا ہے، اس وقت لیڈر شپ کے پی کے پاس ہی ہے، جنہوں نے جماعت کو پس پشت ڈالا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پارٹی قیادت عمران خان سے ملاقات اور رہائی کے معاملات تک محدود ہے، یہ لوگ قومی مسائل پر بات ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی کا سیاسی کردار سکڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

سلمان غنی نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی نے مزاحمت کی پالیسی ہی اپنائے رکھی اور پنجاب میں کوئی متحرک کردار ادا نہ کیا تو جماعت کی مقبولیت آنے والے دنوں میں مزید متاثر ہوگی، اور ووٹ بینک بھی کم ہوگا۔

مزید پڑھیں: امن و امان کی صورت حال پیدا ہوئی تو عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی پر غور ہو سکتا ہے، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اگر پنجاب میں متحرک ہونا ہے تو عمران خان کے بیانیے کے بجائے عوامی ایشوز کو اپنی سیاست کا حصہ بنائے، لیکن اگر یہی سیاست رہی تو تحریک انصاف کو پنجاب میں متحرک ہونے میں بہت وقت لگے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp