ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار لیونل میسی کے دورۂ بھارت سے جڑے تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں سابق بھارتی کرکٹ کپتان اور معروف اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر سارو گنگولی نے کولکتہ کے ایک فٹبال فین کلب کے عہدیدار کو 50 کروڑ روپے کا ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔
سارو گنگولی نے ارجنٹینا فٹبال فین کلب کے عہدیدار اتم ساہا کے خلاف کولکتہ پولیس میں بھی باضابطہ شکایت درج کروائی ہے۔ اتم ساہا نے ایک صحافی سے گفتگو میں الزام عائد کیا تھا کہ میسی کے G.O.A.T انڈیا ٹور کے اصل منتظم سارو گنگولی تھے جبکہ حال ہی میں گرفتار کیے گئے ستادرو دتہ محض ایک’فرنٹ مین ‘ تھے۔
یہ بھی پڑھیے کولکتہ میں مشتعل ہجوم نے اسٹار فٹبالر میسی پر بوتلیں برسا دیں
گنگولی نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا ’پولیس شکایت کے ساتھ ساتھ میں نے فٹبال فین کلب کے اس عہدیدار کو 50 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھی بھجوایا ہے۔ یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے جو چاہیں بول دیتے ہیں۔‘
ساکھ اور ذہنی سکون متاثر ہونے کا مؤقف
کولکتہ پولیس کے سائبر سیل کو ای میل کے ذریعے دی گئی شکایت میں سارو گنگولی نے مؤقف اختیار کیا کہ اتم ساہا کے بیانات نے ان کی ساکھ اور ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پولیس کے ایک افسر کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ الزامات بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے دانستہ طور پر لگائے گئے، جس پر تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے فٹبالر لیونل میسی کو بھارت میں رسوائی کا سامنا، بھارتی سیاستدان نے تمام حدیں پار کردیں
گنگولی نے مزید کہا کہ ان کا چند دہائیوں پر محیط کیریئر بطور کھلاڑی اور اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر ملکی و عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے، اور اس طرح کے بے بنیاد الزامات ان کی محنت سے بنائی گئی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
تقریب منسوخی کا پس منظر
واضح رہے کہ سارو گنگولی کو 13 دسمبر کو وزیرِ اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بینرجی اور دیگر معزز شخصیات کے ساتھ لیونل میسی اور ان کے وفد کی پذیرائی کے لیے اسٹیج پر موجود ہونا تھا، تاہم سالٹ لیک اسٹیڈیم میں میسی کے اچانک روانہ ہونے کے بعد تماشائیوں کے ہنگامے کے باعث یہ تقریب منسوخ کر دی گئی تھی۔













