پی آئی اے کی ممکنہ نجکاری، ملازمین کا شدید احتجاج، فضائی آپریشن معطل کرنے کی دھمکی

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے خلاف پی آئی اے پیپلز یونٹی کے کارکنان نے لاہور میں شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین پی آئی اے ٹاؤن آفس کے باہر بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ سڑک پر نکل آئے اور نجکاری کے خلاف نعرے بازی کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز یونٹی کے صدر رانا کاشف نے کہا کہ اگر نجکاری ہوئی تو ہم خودکشی کر لیں گے اور اس پرائیوٹائزیشن کو ہر صورت روکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا پی آئی اے کی نجکاری 23 دسمبر کو ہو جائے گی؟

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ایک ریاستی ادارہ ہے اور اس کی نجکاری آئین و قانون کے منافی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ نجکاری کے لیے نہ تو پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی اور نہ ہی کونسل آف کامن انٹرسٹ سے، اس لیے حکومت فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے۔

رانا کاشف نے دعویٰ کیا کہ پی آئی اے گزشتہ ڈیڑھ برس سے اربوں روپے منافع کما رہی ہے جبکہ یورپ سمیت متعدد بین الاقوامی روٹس بھی بحال ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کے اثاثوں کی مالیت 1200 ارب روپے سے زائد ہے مگر اسے محض 100 ارب روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کی نجکاری کے آخری مراحل میں، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کا بوجھ کون اٹھائے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر نجکاری کرنی ہی ہے تو ملازمین کو ترجیح دی جائے۔ ‘جو کمپنی جتنی بولی دے گی، ہم اس سے زیادہ دینے کو تیار ہیں۔ ہمیں جہاز فراہم کیے جائیں اور خراب طیاروں کی مرمت کی اجازت دی جائے، مگر دانستہ طور پر ہمیں مرمت سے روکا جا رہا ہے تاکہ ادارہ اونے پونے داموں فروخت ہو سکے۔’

صدر پیپلز یونٹی نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے تمام قرضے ادا کیے جا چکے ہیں اور اس کے فضائی روٹس کی مالیت بھی اربوں ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا تو ملازمین فضائی آپریشن معطل کرنے پر مجبور ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا