آن لائن توہین کے جرم میں ٹک ٹاکر کو 6 ماہ قید اور ملک بدر کرنے کا حکم

بدھ 24 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان میں عدالت نے 36 سالہ عرب ٹک ٹاکر خاتون کو 6 ماہ قید کی سزا کے بعد ملک بدر کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے خاتون کو ایک ٹک ٹاک لائیو اسٹریم کے دوران کسی فرد کی عوامی توہین کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا۔

عدالت نے اسے متحدہ عرب امارات کے وفاقی جرائم اور سزاؤں کے قانون کے آرٹیکل 427(3) کے تحت توہین کا مرتکب قرار دیا جو کسی کی عزت یا سماجی مقام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کو جرم قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا قیمتی سونا جعلی نکلا، 10 لاکھ روپے بھی ہار گئے

عدالت نے ٹک ٹاکر کو تمام عدالتی فیس ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ مدعی کے سول دعویٰ کے لیے معاملہ خصوصی سول عدالت کو بھیج دیا گیا تاکہ متاثرہ فرد مالی معاوضہ کے لیے قانونی چارہ جوئی کر سکے۔

پبلک پراسیکیوشن نے خاتون پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ٹک ٹاک پر ایسے بیانات نشر کیے جو مدعی کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانے کے لیے تھے۔ عدالت کے مطابق بیانات نہ صرف توہین آمیز تھے بلکہ مدعی کے کردار اور اس کی والدہ کی ساکھ کو بھی نشانہ بناتے تھے۔ مدعا علیہہ کی تردید مسترد کرتے ہوئے عدالت نے اسے ذمہ دار قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کی بھارتی ٹک ٹاکر سے فلرٹ کی ویڈیو وائرل

عدالت نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا لائیو اسٹریم کے ذریعے کی جانے والی توہین بھی دیگر عوامی مواصلاتی ذرائع کے برابر قانونی ذمہ داری کے تابع ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کسی کے پرائیویسی یا وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتی۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس آرٹیکل 213 آف کریمنل پروسیجر لا اور آرٹیکل 14 آف جسٹیس فیس لا کے نفاذ کی اہم مثال ہے جہاں فوجداری سزا کے ساتھ ساتھ متاثرہ فرد کو مالی معاوضے کے لیے سول عدالت جانے کی راہ بھی فراہم کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟