بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے آغاز سے ایک روز قبل نواکھالی ایکسپریس کے ہیڈ کوچ خالد محمود نے ناقص انتظامات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری ٹریننگ سیشن چھوڑ دیا۔ ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کوچ طلحہ زبیر بھی اسٹیڈیم سے باہر چلے گئے۔
یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب نواکھالی ایکسپریس کی ٹیم ٹریننگ کے لیے میدان میں پہنچی، مگر کوچنگ اسٹاف نے پریکٹس کے لیے صرف چند گیندیں دستیاب پائیں۔ اس صورتحال پر خالد محمود شدید غصے میں آ گئے اور دونوں کوچز اسٹیڈیم سے نکل کر ایک آٹو رکشہ (مقامی زبان میں سی این جی) میں سوار ہو کر روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے بی پی ایل میں 11 پاکستانی شرکت کریں گے، حتمی فہرست سامنے آگئی
خالد محمود نے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں میں بی پی ایل میں کام نہیں کر سکتا۔ میں نے بی پی ایل میں پہلے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے۔
انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ نواکھالی فرنچائز کے ساتھ کام جاری نہیں رکھیں گے۔
ٹیم کے بعض عہدیداروں نے کوچز کو واپس لانے کی کوشش کی اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں دہرائی جائے گی، تاہم خالد محمود اس وقت اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
کوچز کے جانے کے باوجود ٹیم کے کھلاڑیوں نے ٹریننگ جاری رکھی۔ نواکھالی ایکسپریس کے اسکواڈ میں بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی جانسن چارلس، کُسل مینڈس اور محمد نبی کے علاوہ بنگلہ دیش کے نمایاں کھلاڑی حسن محمود، سومیا سرکار اور ذاکر علی شامل ہیں۔
بعد ازاں خالد محمود اسٹیڈیم واپس آئے اور واقعے کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید انہوں نے جذبات میں آ کر حد سے زیادہ ردعمل دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ کے دوران مجھے مطلوبہ سہولیات اور سامان نہیں ملا، جس پر میرا ضبط ٹوٹ گیا۔ میں مانتا ہوں کہ اس وقت میرا رویہ درست نہیں تھا۔ میں فرنچائز مالکان کا شکر گزار ہوں، میں نے ان سے بات کی ہے، بی سی بی نے بھی مجھ سے رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اور بورڈ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ نواکھالی ایکسپریس رواں سیزن کی 4 نئی فرنچائزز میں شامل ہے اور اسے سب سے آخر میں ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا، جہاں اس بار 7 کے بجائے 6 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بی پی ایل کھیلنے والے پاکستانی کرکٹرز سے متعلق پی سی بی کا بڑا فیصلہ
یہ واقعہ اس اعلان کے چند گھنٹے بعد پیش آیا جب بی سی بی نے چٹاگانگ رائلز کی فرنچائز کا کنٹرول سنبھال لیا، کیونکہ اس کے مالکان نے اسپانسر نہ ملنے پر فرنچائز چھوڑ دی تھی۔
بی پی ایل کے بارہویں ایڈیشن کے آغاز سے صرف 24 گھنٹے قبل پیش آنے والے ان واقعات نے بی سی بی کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور کئی اعلیٰ حکام کو بعد ازاں اسٹیڈیم میں دیکھا گیا۔














