نوجوان سیاسی رہنما کے قتل کیخلاف ڈھاکا میں سیاسی کارکنوں کا احتجاج، اہم شاہراہ بند

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے وسطی علاقے شاہ باغ چوک پر سیاسی کارکنوں کے پلیٹ فارم انقلاب منچ کے حامیوں نے جمعے کے روز دھرنا جاری رکھا اور اعلان کیا کہ جب تک شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، وہ سڑکیں نہیں چھوڑیں گے۔

مظاہرین نے جمعہ کی نماز کے بعد اجتماع شروع کیا اور بعد ازاں غیر معینہ مدت کے لیے شاہ باغ چوک کو بلاک کرنے کا اعلان کر دیا۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب منچ کے رکن سیکریٹری عبداللہ الجابر نے کہا کہ مظاہرین رات بھر شاہ باغ میں موجود رہیں گے اور آئندہ دنوں میں بھی اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: قاتلانہ حملے میں زخمی طلبہ تحریک کے رہنما عثمان ہادی دوران علاج چل بسے

انہوں نے کہا کہ مظاہرین سردی برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں اور احتجاج کے اختتام پر وہ کمبل بھی تقسیم کریں گے جو مرحوم عثمان ہادی نے غریبوں کے لیے خریدے تھے اور جو عطیات کی صورت میں فراہم کیے گئے ہیں۔

احتجاج کے باوجود منتظمین نے واضح کیا کہ ہفتے کے روز یونیورسٹی کے طلبہ کو امتحانی مراکز تک پہنچنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم احتجاج شاہ باغ اور اطراف کے علاقوں میں جاری رہے گا۔ دھرنے کے باعث شاہ باغ اور قریبی چوراہوں پر دن اور رات بھر ٹریفک شدید متاثر رہی۔

انقلاب منچ کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکام قتل کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کرنے والوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے، اور ان افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا جنہوں نے ملزمان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد دی، تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ بعض مقررین نے اعلیٰ سرکاری مشیروں سے مطالبہ کیا کہ وہ براہِ راست مظاہرین سے بات چیت کریں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی دہشتگردی کا شکار بنگلہ دیشی طالب علما رہنما عثمان ہادی کون تھا؟

واضح رہے کہ عثمان ہادی گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی نمایاں شخصیت تھے اور حلقہ ڈھاکا-8 سے ممکنہ پارلیمانی امیدوار بھی سمجھے جاتے تھے۔ انہیں 12 دسمبر کو ڈھاکا میں فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا، جس کے بعد علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں وہ 18 دسمبر کو انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین میں ڈھاکا میں ہزار افراد نے شرکت کی۔

پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے اس کیس میں کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، تاہم مبینہ مرکزی حملہ آور فیصل کریم مسعود تاحال مفرور ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اس کے بھارت فرار ہونے کا شبہ ہے۔

انقلاب منچ کا کہنا ہے کہ وہ عثمان ہادی کے قتل پر مکمل انصاف کی فراہمی تک ملک بھر میں عوامی حمایت منظم کرتا رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟