وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اٹلی نے پاکستان کو آئندہ 3 سال کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے 10 ہزار نوکریوں کا کوٹہ الاٹ کر دیا ہے، جو یورپ میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق اٹلی یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے پاکستانی ورکرز کے لیے باقاعدہ طور پر روزگار کا کوٹہ مختص کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہر سال 3,500 پاکستانی شہری روزگار کے لیے اٹلی جائیں گے۔
سیزنل اور نان سیزنل کوٹہ کی تفصیل
وزارت اوورسیز کے ترجمان نے بتایا کہ 1,500 پاکستانی سیزنل کوٹہ کے تحت جبکہ 2,000 پاکستانی نان سیزنل کوٹہ پر ہر سال اٹلی میں ملازمت حاصل کر سکیں گے۔
کن شعبوں میں نوکریاں دستیاب ہوں گی؟
اطالوی حکومت کی جانب سے جن شعبوں میں پاکستانی ورکرز کے لیے کوٹہ مختص کیا گیا ہے، ان میں شپ بریکنگ، ہیلتھ کیئر، زراعت اور فارمنگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں جاپان میں لاکھوں خالی آسامیاں، پاکستانی ہنرمندوں کے لیے بڑی خوشخبری
ترجمان کے مطابق پاکستانی ہنرمند اور نیم ہنرمند ورکرز ان شعبوں میں روزگار حاصل کریں گے۔ اس کے علاوہ ویلڈرز، ٹیکنیشن، شیف، ویٹرز، ہاؤس کیپنگ اسٹاف کے لیے بھی مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نرسنگ، میڈیکل ٹیکنیشن، کاشتکاری اور زرعی شعبوں میں بھی پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
پاکستان اٹلی جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس
وزارت کے مطابق فروری میں پاکستان اور اٹلی کے جوائنٹ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں لیبر کوآپریشن کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کا بیان
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اٹلی کی جانب سے پاکستانی ورکرز کے لیے نوکریوں کا کوٹہ مختص ہونا خوش آئند ہے۔ اس سے اٹلی میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: سنگاپور میں روزگار کے حصول کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری
انہوں نے مزید کہا کہ جلد یورپ کے مزید ممالک کے دروازے بھی پاکستانی ورک فورس کے لیے کھلیں گے، جو یورپین لیبر مارکیٹ میں پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اپنے محنت کشوں کو عالمی سطح پر باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے، جبکہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔













