اسلام آباد پولیس نے ایک اور بڑی اور شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اغوا برائے تاوان کے ایک سنگین کیس کو کامیابی سے حل کر لیا۔
20 لاکھ روپے تاوان کی خاطر اغوا کیے جانے والے 14 سالہ بچے کو بغیر کسی تاوان کی ادائیگی کے پشاور سے بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، جبکہ مرکزی ملزم بلال احمد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد، بین الصوبائی ڈکیت گینگ کے ساتھیوں کی پولیس ٹیم پر فائرنگ
پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان نے تھانہ بھارہ کہو کی حدود سے 14 سالہ حارث علی کو اغوا کیا تھا اور بعد ازاں اس کی رہائی کے لیے 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ واقعے کا ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے فوری نوٹس لیا اور اے ایس پی محمد انضمام خان کی نگرانی میں ایک خصوصی پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔
خصوصی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج اور انسانی ذرائع کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا اور قلیل وقت میں مغوی بچے کا سراغ لگا کر اسے پشاور سے بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ اس کارروائی کے دوران مرکزی ملزم بلال احمد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹریفک پولیس اہلکار رشوت لیتے ہوئے منظر عام پر، صحافی سے بدسلوکی کی ویڈیو وائرل
ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس نے گزشتہ ایک سال کے دوران درجنوں اہم اور پیچیدہ کیسز کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں حل کیا ہے۔
مغوی بچے کی بحفاظت بازیابی پر والدین نے اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ ایس ایس پی آپریشنز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔














