سال 2025 کے اختتامی مہینوں میں پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ ہوا۔ دہشتگردوں نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ایف سی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ انہی دنوں قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج پر ہونے والا حملہ بھی ناکام بنا دیا گیا۔
پاکستان میں صرف سال کے آخری مہینوں میں ہی بڑے حملے نہیں ہوئے بلکہ دہشتگرد حملوں کے حوالے سے 2025 ایک مشکل سال ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں: باجوڑ: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک کردیے، فائرنگ کے تبادلے میں میجر شہید
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 کے دوران پاکستان میں دہشتگردی اور دیگر تشدد کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت 25 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سال 2025 میں پورے ملک میں مجموعی طور پر 1188 واقعات رونما ہوئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق دہشتگردی اور دیگر تشدد کے ان واقعات میں مجموعی طور پر 3187 افراد جاں بحق جبکہ 1981 زخمی ہوئے، جن میں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات میں دہشتگرد حملے اور جوابی سیکیورٹی کارروائیاں دونوں شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے صرف 11 ماہ میں ہونے والی ہلاکتیں سال 2024 کی مجموعی ہلاکتوں (2546) سے زیادہ ہیں، یعنی اوسطاً روزانہ قریباً 15 جانیں ضائع ہوئیں۔
خیبر پختونخوا میں کتنے واقعات رونما ہوئے؟
2025 میں خیبرپختونخوا ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔ سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردی سے سب سے زیادہ جانی نقصان بھی خیبر پختونخوا میں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق صوبے میں 2165 جانیں ضائع ہوئیں جو مجموعی نقصان کا 68 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اغوا کے سب سے زیادہ 142 واقعات بھی خیبر پختونخوا میں سامنے آئے، جن میں سرکاری اہلکاروں، سیاستدانوں، سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ان کارروائیوں میں 1370 مشتبہ شدت پسند مارے گئے جو دہشتگرد حملوں میں ہونے والی 795 ہلاکتوں سے 72 فیصد زیادہ ہیں۔
بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات
سال 2025 میں خیبر پختونخوا کے بعد بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں دہشتگردی کے 366 واقعات میں 896 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان تخریب کاری کا مرکز بن کر ابھرا جہاں 255 تخریب کاری کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان حملوں کا ہدف حکومتی تنصیبات، سیکیورٹی چوکیاں اور عوامی املاک تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 22 ایسے واقعات ہوئے جن میں مسلح گروہوں نے اہم شاہراہیں گھنٹوں تک بلاک رکھیں، گاڑیوں کی تلاشی لی اور مخصوص افراد کو اغوا کیا۔ ایف سی ہیڈکوارٹرز بلوچستان پر بھی 2025 میں ایک بڑا حملہ ہوا۔
پنجاب میں 2025 کے دہشتگردی کے واقعات
سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق پنجاب فرقہ وارانہ واقعات میں نمایاں رہا جہاں قریباً 195 واقعات میں اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں، قبروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا۔
ملک کے باقی علاقوں سندھ، آزاد جموں و کشمیر، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 90 دہشتگردی کے واقعات میں 126 افراد جاں بحق ہوئے جو مجموعی اموات کا صرف 4 فیصد بنتے ہیں۔
’پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے‘
تجزیہ کاروں اور سرکاری حکام کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور اس حوالے سے پاکستان نے شواہد بھی پیش کیے ہیں۔
پشاور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے سمیت دیگر واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے اکثر واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے۔
زاہد امداد پشاور کے نوجوان کرائم رپورٹر ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں افغان سرزمین استعمال ہوتی ہے۔
’دہشتگرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں‘
انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ دہشتگردی میں کمی آئے گی اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی، مگر خیبر پختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور دونوں افغانستان سے ملحقہ ہیں۔
زاہد امداد کے مطابق افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پھیلاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز حملے کے خودکش بمبار کے افغانستان سے آنے کے شواہد بھی ملے ہیں جبکہ دیگر واقعات میں بھی افغان لنک سامنے آتا ہے۔
مزید پڑھیں: باجوڑ: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک کردیے، فائرنگ کے تبادلے میں میجر شہید
’افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے‘
ان کے مطابق افغانستان دہشتگردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں سے وہ پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2025 گزر چکا ہے اور اگر افغانستان نے اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کے لیے استعمال ہونے سے نہ روکا تو پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی یا ان کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔













