میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کورنگی مہران ٹاؤن میں 8 سالہ بچے کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
کڈنی ہل پارک میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گٹر کا ڈھکن ہٹا کر سائیڈ میں رکھ دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں ایک اور ’کمسن بچہ کھلے گٹر میں گر کر ’پیپلزپارٹی کی 15 سالہ کارکردگی کی نذر‘
میئر نے کہاکہ جس یونین کونسل میں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں 9 اور 10 دسمبر کو ایک لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو بھی کانٹریکٹر کام نہیں کرے گا، اسے بلیک لسٹ کیا جائے گا اور یہ ہرگز قابل قبول نہیں کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کو بلیک میل کیا جائے۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اس علاقے کو مکمل طور پر اربن فاریسٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس سال متعدد منصوبوں پر کام جاری رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو کانٹریکٹر کام کرے گا، اس کے ساتھ تعاون کیا جائے گا، جبکہ کام نہ کرنے والے کانٹریکٹرز کو بلیک لسٹ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا تھا۔
مزید پڑھیں: کیا گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والے کمسن ابراہیم کے دادا نے حقیقت چھپانے کے لیے پیسے لیے؟
کورنگی مہران ٹاؤن میں مین ہول میں جاں بحق ہونے والے بچے کے والد کا کہنا ہے کہ گٹر صفائی کے لیے ایک ماہ قبل کھولا گیا تھا اور پھر اس پر ڈھکن نہیں لگایا گیا۔













