امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر جلد کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ بمباری شروع کر دے گا، سیز فائر میں توسیع نہیں کریں گے، ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔
منگل کے روز ‘سی این بی سی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور وہ کسی ایسے سمجھوتے کی تلاش میں ہیں جسے وہ ایک ‘عظیم ڈیل’ قرار دے سکیں، تاہم ان کے پاس مزید انتظار کے لیے وقت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر تہران کے ساتھ فوری طور پر معاملات طے نہ ہوئے تو امریکی فوج کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور وہ حملے دوبارہ شروع کرنے کو ایک بہتر حکمتِ عملی سمجھتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب سمجھوتے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، کیونکہ امریکی کارروائیوں میں ان کی بحریہ، فضائیہ اور اعلیٰ قیادت ختم ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اگرچہ انہوں نے ایران میں کبھی باقاعدہ ‘حکومت کی تبدیلی’ کو اپنی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا تھا، لیکن بالواسطہ طور پر وہ یہ مقصد حاصل کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کی حالیہ ہلاکتوں نے معاملات کو پیچیدہ ضرور کیا ہے، لیکن اب جن نئے لوگوں سے واسطہ پڑ رہا ہے وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ “عقلمند اور حقیقت پسند” ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بہترین انداز میں نمٹ رہے ہیں، ایران کی ناکہ بندی بہت کامیاب رہی، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، کل آبنائے ہرمز پر جو جہاز پکڑا اس میں ایران کے لیے تحائف تھے جو چین کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی اور بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے واضح کیا کہ وہ امن مذاکرات کے لیے جنگ بندی میں مزید رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے نزدیک موجودہ دباؤ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کا اصل سبب ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہورہی ہیں۔
واشنگٹن نے ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے امید ظاہر کی ہے جبکہ ایرانی حکام بھی اس عمل میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ کے سخت لہجے نے ان سفارتی کوششوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
عالمی مبصرین صدر ٹرمپ کے اس بیان کو مذاکراتی میز پر ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں، تاہم اس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو وہ اقدامات کریں گے جو 47 برسوں میں کیے جانے چاہیے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے فریقین کو کسی پرامن حل پر لانے کے لیے سرگرم ہے، مگر امریکی صدر کے تازہ ترین انتباہ نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کہ آیا امن مذاکرات کسی منطقی انجام تک پہنچ سکیں گے یا خطہ دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔














