اگر جلد کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ بمباری شروع کر دے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر دھمکی

منگل 21 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر جلد کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ بمباری شروع کر دے گا، سیز فائر میں توسیع نہیں کریں گے، ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔

 منگل کے روز ‘سی این بی سی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور وہ کسی ایسے سمجھوتے کی تلاش میں ہیں جسے وہ ایک ‘عظیم ڈیل’ قرار دے سکیں، تاہم ان کے پاس مزید انتظار کے لیے وقت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر تہران کے ساتھ فوری طور پر معاملات طے نہ ہوئے تو امریکی فوج کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور وہ حملے دوبارہ شروع کرنے کو ایک بہتر حکمتِ عملی سمجھتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب سمجھوتے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، کیونکہ امریکی کارروائیوں میں ان کی بحریہ، فضائیہ اور اعلیٰ قیادت ختم ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اگرچہ انہوں نے ایران میں کبھی باقاعدہ ‘حکومت کی تبدیلی’  کو اپنی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا تھا، لیکن بالواسطہ طور پر وہ یہ مقصد حاصل کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کی حالیہ ہلاکتوں نے معاملات کو پیچیدہ ضرور کیا ہے، لیکن اب جن نئے لوگوں سے واسطہ پڑ رہا ہے وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ “عقلمند اور حقیقت پسند” ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ایران سے بہترین انداز میں نمٹ رہے ہیں، ایران کی ناکہ بندی بہت کامیاب رہی، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے، کل آبنائے ہرمز پر جو جہاز پکڑا اس میں ایران کے لیے تحائف تھے جو چین کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی اور بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے واضح کیا کہ وہ امن مذاکرات کے لیے جنگ بندی میں مزید رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ان کے نزدیک موجودہ دباؤ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کا اصل سبب ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے امن کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہورہی ہیں۔

 واشنگٹن نے ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے امید ظاہر کی ہے جبکہ ایرانی حکام بھی اس عمل میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ کے سخت لہجے نے ان سفارتی کوششوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

عالمی مبصرین صدر ٹرمپ کے اس بیان کو مذاکراتی میز پر ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں، تاہم اس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو وہ اقدامات کریں گے جو 47 برسوں میں کیے جانے چاہیے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ

 دوسری جانب پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے فریقین کو کسی پرامن حل پر لانے کے لیے سرگرم ہے، مگر امریکی صدر کے تازہ ترین انتباہ نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کہ آیا امن مذاکرات کسی منطقی انجام تک پہنچ سکیں گے یا خطہ دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد امن مذاکرات: پاکستان ایرانی وفد کی شرکت کی تصدیق کا منتظر ہے، عطا تارڑ

سعودی عرب کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ

مائیکل جیکسن کی زندگی کے چند حیرت انگیز حقائق کیا ہیں؟

امریکی فوجی اڈے خلیجی ممالک کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان

آزاد جموں و کشمیر زرعی کانفرنس بدھ کو مظفرآباد میں منعقد ہوگی

ویڈیو

جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش

لائیوپاکستان کی جنگ بندی میں توسیع کی اپیل، ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے بڑے معاہدہ کے لیے پرامید

لائیوجے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

علامہ اقبال اور پاکستان پوسٹ

اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

ایک اور ایک گیارہ سے نو دو گیارہ