جرمنی میں کرسمس کے دوران بڑی بینک ڈکیتی، تجوری اور 3 ہزار لاکرز میں جھاڑو پھرگئی

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی میں کرسمس کے موقع پر ایک بڑی اور سنسنی خیز ڈکیتی کی واردات نے حکام کو ہلا کر رکھ دیا جہاں نامعلوم چوروں نے بینک والٹ میں سوراخ کر کے 30 ملین یورو سے زائد کی نقدی اور قیمتی اشیا چرا لیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیرس: لوور میوزیم سے تاریخی تاج و جواہرات چوری، چوروں نے 7 منٹ میں واردات مکمل کی

پولیس کے مطابق یہ واردات جرمنی کے شہر گیلزنکرشن میں واقع اسپارکاسے سیونگز بینک میں کی گئی جہاں چوروں نے ایک بڑے ڈرل کی مدد سے والٹ توڑا اور 3 ہزار سے زائد لاکرز کھول لیے۔ ان لاکرز میں نقد رقم، سونا اور قیمتی زیورات موجود تھے۔

مزید پڑھیے: دنیا کے عجائب گھروں میں ہونے والی 10 بڑی چوریاں

پولیس نمائندے نے اس واردات کو فلم اوشنز الیون سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈکیتی انتہائی منصوبہ بندی اور پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی۔ پولیس کو اس جرم کا علم پیر کی علی الصبح اس وقت ہوا جب بینک کا فائر الارم بجا۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے کرسمس کے دوران علاقے میں سناٹے کا فائدہ اٹھایا، بینک میں داخل ہوئے اور قریبی پارکنگ گیراج کے راستے فرار ہو گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات پارکنگ گیراج کی سیڑھیوں میں کئی افراد کو بڑے بڑے بیگ اٹھائے دیکھا گیا تاہم تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور دھچکا، امریکی اپیل کورٹ نے تارکینِ وطن کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا

وزیراعظم شہباز شریف آج ایران کا دورہ کریں گے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، باہمی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا

دانہ سر بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

’لاہور میں ہماری بہترین مہمان نوازی کی گئی‘ عمران ہاشمی نے پاکستانیوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت، دہشتگرد حملوں کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار دیا

ویڈیو

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو