ہائی بلڈ پریشر گردوں کے لیے توقع سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلند فشارِ خون بغیر کسی واضح علامات کے گردوں کے اہم خلیات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔
میڈیکل یونیورسٹی آف ویانا کے ماہرین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر بذاتِ خود گردوں کے نہایت ضروری خلیات کو متاثر کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اس مرحلے پر بھی جب مریض کو کسی قسم کی علامات یا لیبارٹری ٹیسٹ میں خرابی ظاہر نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
یہ تحقیق طبی جریدے Hypertension میں شائع ہوئی، جس کی قیادت کرسٹوفر پاشن، رائنر اوبر باؤر اور ہائنز ریگلے نے کی۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر گردوں کے افعال اور ان کے بنیادی یونٹس، جنہیں نیفرونز کہا جاتا ہے، پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
گردے جسم سے فاضل مادّوں اور اضافی پانی کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر گردے میں ننھے ننھے فلٹرز ہوتے ہیں جنہیں گلومیرولی کہا جاتا ہے، اور ان میں موجود خصوصی خلیات پوڈوسائٹس کہلاتے ہیں۔ اگر یہ خلیات متاثر ہوں یا ان کی تعداد کم ہو جائے تو گردے درست طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔
تحقیق کے لیے ماہرین نے 99 مریضوں کے گردوں کے صحت مند ٹشوز کا جائزہ لیا۔ یہ مریض 2013 سے 2018 کے دوران گردے کے ٹیومر کی سرجری سے گزر چکے تھے۔ تحقیق میں صرف گردوں کے صحت مند حصوں کو شامل کیا گیا۔ بعض مریض ہائی بلڈ پریشر یا ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا تھے جبکہ بعض مکمل طور پر صحت مند تھے۔
جدید امیجنگ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے پوڈوسائٹس کی تعداد، سائز اور گلومیرولی کی ساخت کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں پوڈوسائٹس کی تعداد کم تھی جبکہ باقی خلیات کا سائز غیر معمولی طور پر بڑا ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے سے ’ رحم‘ کے فائبرائیڈز کو روکا جاسکتا ہے
اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں ان افراد میں بھی دیکھی گئیں جو ذیابیطس کا شکار نہیں تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ہائی بلڈ پریشر ہی گردوں کو ابتدائی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ساختی تبدیلیاں گردوں کی بیماری کی ابتدائی علامات میں شمار ہوتی ہیں۔ چونکہ یہ نقصان علامات ظاہر ہونے سے پہلے شروع ہو جاتا ہے، اس لیے یہ تحقیق مستقبل میں گردوں کے امراض کی بروقت تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔














