بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے گورنمنٹ سٹی کالج میں منگل کے روز 2 طلبہ گروپوں کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم میں کم از کم 15 طلبازخمی ہوگئے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تشدد میں حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے وابستہ جاتیاتبادی چھاترا دل اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترا شبرکے کارکنان ملوث تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق صبح سے ہی کشیدگی بڑھ رہی تھی اور دونوں گروپ ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں 2013 کے متنازع آپریشن کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ
دوپہر کے قریب تصادم شروع ہوا جو پولیس مداخلت کے باوجود وقفے وقفے سے شام تک جاری رہا۔
رپورٹس کے مطابق جھگڑے میں بعض بیرونی افراد بھی شامل ہوگئے تھے جو تیز دھار ہتھیاروں سے لیس تھے۔ ایک کارکن کے ٹخنے کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث وہ بری طرح زخمی ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تنازع کی وجہ کالج کی دیوار پر طلبہ سیاست سے متعلق ایک نعرے پر اختلاف تھا۔
مزید پڑھیں: میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا
جسے مبینہ طور پر ایک طالب علم رہنما نے تبدیل کردیا، جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
صورتحال بگڑنے پر کالج انتظامیہ نے کلاسز اور امتحانات معطل کر دیے۔
ایک طلبہ گروپ کے عہدیداروں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ ابتدائی جھڑپوں کے بعد مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش آرمی چیف نے ہل اینڈ جنگل وارفیئر اسکول کا افتتاح کر دیا
بعد ازاں پولیس نے مزید نفری تعینات کرکے صورتحال کو قابو میں کرنے کا دعویٰ کیا۔
بنگلہ دیش میں حریف سیاسی طلبہ تنظیموں کے درمیان کیمپس تشدد ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جو خاص طور پر سیاسی کشیدگی کے دوران شدت اختیار کر لیتا ہے۔














