پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے پارٹی چیئرمین کے معاملے پر جاری بحث کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی پالیسی اور قیادت کا اصل مرکز اب بھی عمران خان ہی ہیں، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان عمران خان کے مقرر کردہ اور منتخب چیئرمین ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان سے بیرسٹر گوہر کے بعض بیانات کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا کہ چیئرمین کی رائے کو پارٹی پالیسی کیوں نہ سمجھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ’سیاسی جماعتوں کو کلاس روم کی طرح نہیں چلایا جاسکتا‘ عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو یہ پیغام کیوں بھیجا؟
جس پر انہوں نے وضاحت کی کہ تحریک انصاف کی پالیسی عمران خان دیتے ہیں اور وہی حقیقی چیئرمین ہیں۔ ’شر کے پتلے جو بھی رنگ دیں، حقیقت یہی ہے کہ پارٹی قیادت عمران خان کے پاس ہے۔‘
گوہر صاحب عمران خان صاحب کے مقرر کردہ اور منتخب چیئرمین ہیں۔ مجھ سے گوہر صاحب کے کچھ بیانات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ چئرمین کی رائے کو پارٹی پالیسی کیوں نہ سمجھا جائے؟ اس تناظر میں نے کہا کہ پالیسی عمران خان صاحب دیتے ہیں اور وہی حقیقی چیئرمین ہیں۔ شر کے پتلے جو بھی رنگ دیں ۔۔
— salman akram raja (@salmanAraja) January 7, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا بیرسٹر گوہر علی خان کو عملی طور پر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے اور نیا چیئرمین کون ہوگا۔
اس کے جواب میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چیئرمین عمران خان ہی ہیں اور اس وقت کوئی اور چیئرمین موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ صورتحال اور الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کے ساتھ رویہ سب کے سامنے ہے، جو ان کے بقول ’جبر کے ضابطے‘ کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: جسٹس نعیم اختر افغان کا پی ٹی آئی سے وابستگی پر سلمان اکرم راجہ سے کیا مکالمہ ہوا؟
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اصل صورتحال سے سب آگاہ ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان ہی چیئرمین ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور چیئرمین نہیں۔
تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری کے اس مؤقف کو پارٹی کے اندر قیادت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اپنے اس حالیہ بیان کے ذریعے انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ پارٹی کی نظریاتی اور سیاسی قیادت بدستور عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔













