کراچی میں بھتہ خوری کا ایک منظم گروہ جیل میں بننے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایس آئی یو نے کراچی میں بھتہ خوری کے منظم نیٹ ورک کے متعدد افراد کی گرفتاریاں اور تفتیش مکمل کرلی ہے۔ تفتیش میں جواد عرف واجہ، شاہ زیب اور ریحان شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں بھتہ خوری اور امن و امان کے بحران پر ڈاکٹر فاروق ستار کا احتجاج، تاجروں اور بلڈرز کی حمایت
تفتیش کے دوران بدنام زمانہ بھتہ خور جواد عرف واجہ نے بتایا کہ نیٹ ورک کی تشکیل 2022 میں ہوئی اور اس کا آغاز جیل میں دیگر ملزمان سے ملاقات کے بعد ہوا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2022 میں جیل سے رہائی کے بعد نیٹ ورک کے دیگر کارندوں سے ملاقاتیں کی گئیں اور ماضی میں موبائل فونز کی خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی ملوث رہے۔
گرفتار شاہ زیب نے تفتیش میں کہا کہ وہ ماضی میں کار شورومز میں کام کرتا رہا اور وہاں بھتہ کی مد میں رقم وصول کی گئی۔ شاہ زیب نے بتایا کہ جواد کے کہنے پر وہ ریحان کو لڑکے اور اسلحہ فراہم کرتا تھا اور ان لڑکوں کو دھمکانے اور فائرنگ کے لیے ایک لاکھ سے 50 ہزار روپے دیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی جیل سے 22 بھارتی ماہی گیر رہا، کل بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا
ایس آئی یو کے حکام کے مطابق جواد عرف واجہ اور شاہ زیب کو قادری ہاؤس سے گرفتار کیا گیا اور تفتیش کے دوران ان کی شناخت اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات سامنے آئیں۔














