ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی قیادت میں قائم اسلامی نظام کے خلاف احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔
بگڑتی معیشت، مہنگائی میں ہوشربا اضافے اور سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں سے تنگ آ کر ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور مذہبی حکمران نظام کے خلاف نعرے لگائے۔
🚨🇮🇷 BREAKING: Tehran protesters torch government building in dramatic escalation.
The unrest intensified tonight as anti-regime crowds stormed a government facility and set it on fire, with massive flames and thick smoke rising into the sky. pic.twitter.com/SHiJ5qkVtz
— Strike Monitor (@StrikeMonitor) January 9, 2026
ایرانی حکومت نے رات کے وقت احتجاج میں تیزی آنے پر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس بند کر دی، جبکہ عدلیہ کے سربراہ اور سیکیورٹی اداروں نے سخت ردعمل کی وارننگ دی۔ مظاہرین کی جانب سے ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگائے جاتے رہے۔
کچھ مظاہرین نے جلا وطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال پر لبیک کہا۔
Large demonstration in Tehran with people chanting " Death to the dictator ". pic.twitter.com/yVbzT3LlQG
— Majid (@Majid25Heyran) January 9, 2026
رضا پہلوی کے والد، ایران کے سابق شاہ، 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ملک چھوڑ گئے تھے اور شدید علالت کے باعث بعد ازاں انتقال کر گئے تھے۔
مظاہروں میں شاہ کے حق میں نعرے بھی سنائی دیے، جو ماضی میں سزائے موت کا سبب بن سکتے تھے، تاہم آج یہ نعروں میں جھلکتی عوامی بے چینی اور غصے کی علامت بن چکے ہیں۔
’پہلوی واپس آئے گا‘
رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کو رات 8 بجے احتجاج کی اپیل کی تھی۔ مقررہ وقت پر تہران کے مختلف علاقوں میں نعرے بازی شروع ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ’آمر مردہ باد‘ اور ’اسلامی جمہوریہ مردہ باد‘ جیسے نعرے لگائے گئے، مواصلاتی نظام کی بندش سے قبل ہزاروں افراد سڑکوں پر موجود تھے۔
مزید پڑھیں: ایران میں احتجاج جاری، انٹرنیٹ سروس میں شدید خلل، متعدد گرفتاریاں
رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی عوام نے آج رات آزادی کا مطالبہ کیا، جواب میں حکومت نے تمام مواصلاتی ذرائع بند کر دیے۔
انہوں نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایرانی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کا وعدہ کریں۔
Iran’s capital is like Tokyo: big city & high rent. Thats normal.
The price explosion didn’t come from the Islamic system. It came from a rich insider cartel that pushed fake “liberal” economics, cut backroom deals with foreigners, & hollowed out the economy from inside. Also: https://t.co/I8a4tZJyP3 pic.twitter.com/XfzLNx6GxB
— Tom 8.0 🇮🇪🦖 (@ThomasTheGent1) January 2, 2026
رضا پہلوی نے کہا کہ احتجاج کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے وہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اسرائیل کے لیے ان کی حمایت ماضی میں تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ شاہ کے حق میں نعرے رضا پہلوی کی حمایت ہیں یا 1979ء سے پہلے کے دور کی یاد کا اظہار۔
ایران بھر میں احتجاج پھیل گیا
جمعرات کو ایران کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں احتجاج جاری رہا، کئی مارکیٹیں اور بازار مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر بند رہے۔
ان احتجاجوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سول حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کریں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی سیکیورٹی فورسز کو ہدایت
انٹرنیٹ کمپنی کلاؤڈ فلیئر اور نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ بندش کی تصدیق کرتے ہوئے اسے حکومتی مداخلت قرار دیا۔
اگرچہ احتجاج تاحال کسی ایک قیادت کے تحت منظم نہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ رضا پہلوی کی اپیل مستقبل میں کس حد تک اثر انداز ہو گی۔
احتجاج کی وجوہات
یہ موجودہ احتجاج 3 برسوں میں سب سے بڑا عوامی ردعمل ہے، جس کا آغاز گزشتہ ماہ تہران کے گرینڈ بازار سے ہوا، جہاں تاجروں نے کرنسی کی قدر میں تیز گراوٹ پر احتجاج کیا۔
بدانتظامی، مغربی پابندیوں، سیاسی و سماجی آزادیوں پر قدغن اور بے قابو مہنگائی نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا۔
WATCH 🚨 Massive protest in Tehran against Iran's government pic.twitter.com/QmxSEgMLKG
— Insider Paper (@TheInsiderPaper) January 9, 2026
ایران کے سرکاری شماریاتی مرکز کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد رہی۔
حکومت نے معاشی مشکلات کا اعتراف کیا ہے مگر احتجاج کا ذمہ دار غیر ملکی طاقتوں سے منسلک نیٹ ورکس کو ٹھہرایا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ
صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ تسلیم کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی اور معاشی بہتری کے اقدامات پر زور دیا،
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ریال کی قدر میں شدید کمی نے حکومت کو محدود کر دیا ہے، جہاں ایک امریکی ڈالر تقریباً 14 لاکھ ریال تک جا پہنچا ہے۔
حکومتی ردعمل اور ٹرمپ کی وارننگ
ایرانی حکام نے احتجاج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سیکیورٹی سخت کر دی ہے، سخت گیر اخبار ’کیہان‘ نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین کی شناخت کے لیے ڈرونز استعمال کیے جائیں گے۔
مختلف شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کو سنگین بحرانوں کا سامنا: مغربی میڈیا کا آیت اللہ خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے پرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
تاہم انہوں نے رضا پہلوی سے ملاقات کے سوال پر کہا کہ اس وقت ایسا کرنا مناسب نہیں اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آگے کون ابھر کر سامنے آتا ہے۔














