پاکستان کی پہلی قومی جواہراتی پالیسی کی منظوری، ایک ارب ڈالر برآمدات کا ہدف

جمعہ 9 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے جواہراتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

جمعے کے روز جواہراتی شعبے سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تقریباً 450 ارب ڈالر مالیت کے قیمتی پتھروں کے ذخائر موجود ہونے کے باوجود سالانہ برآمدات محض 5.8 ملین ڈالر تک محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا وہ قیمتی پتھر جو صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے

وزیراعظم نے اس بڑے خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ 5 برسوں میں جواہرات کی برآمدات کا ہدف ایک ارب ڈالر مقرر کر دیا۔

اجلاس میں وزیراعظم نے رواں سال 2 سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کرنے کی ہدایت دی تاکہ تحقیق، جدت اور فنی مہارت کو فروغ دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور باضابطہ سرٹیفکیشن نظام کے قیام کے احکامات بھی دیے گئے تاکہ عالمی سطح پر برانڈ پاکستان کی ساکھ مضبوط کی جا سکے۔

پالیسی فریم ورک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار دوست ماحول کی فراہمی اور نوجوان کاروباری افراد کو شعبے کی جدید کاری میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کھربوں ڈالرز کے معدنی ذخائر سے مستفید ہو کر آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے زور دیا کہ غیر قانونی اسمگلنگ کے بجائے قانونی اور باضابطہ برآمدی نظام اپنانے سے پاکستان قیمتی زرمبادلہ میں اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملک بھر میں ایک جامع جیولوجیکل سروے کرایا جائے تاکہ قیمتی پتھروں کے ذخائر کی جغرافیائی نوعیت اور اصل مالیت کا درست تعین کیا جا سکے۔

ان ذخائر میں زمرد، یاقوت، پیریڈوٹ، ٹوپاز اور ایکوامیرین جیسے قیمتی پتھر شامل ہیں، منصوبے پر بروقت عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، ہارون اختر نے وزیراعظم کو ویلیو چین انٹیگریشن اور نیشنل وارنٹی آفس کے قیام سے متعلق بریفنگ دی۔

مزید پڑھیں:ریکوڈک پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرےگا، سی ای او بیرک گولڈ مارک برسٹ

یاد رہے کہ وزارتِ صنعت و پیداوار نے 16 دسمبر 2025 کو جواہراتی شعبے کے لیے ایک نئی اسٹیچوٹری اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جو قومی پالیسی کی نگران ہوگی، کاروباری سہولت فراہم کرے گی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنائے گی۔

حکام کے مطابق پاکستان کی اصل جواہراتی برآمدی صلاحیت 2 ارب ڈالر سالانہ سے زائد ہے، تاہم طویل عرصے سے اس شعبے کا مستند ڈیٹا موجود نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp