امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خود ساختہ ولی عہد اور جلا وطن اپوزیشن رہنما رضا پہلوی سے ملاقات کو مسترد کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر ایران میں ممکنہ حکومتی تبدیلی کی صورت میں کسی ایک رہنما کی حمایت کے لیے تیار نہیں، جبکہ ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاج مزید شدت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں حکومت مخالف احتجاج میں شدت، تہران میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل
الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں رضا پہلوی کو ’اچھا انسان‘ قرار دیا تاہم کہا کہ بطور امریکی صدر ان سے ملاقات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہتر ہے کہ دیکھا جائے کہ ایران میں حالات کس سمت جاتے ہیں اور کون سا کردار ابھر کر سامنے آتا ہے۔

دوسری جانب ایران میں مہنگائی، معاشی بحران اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے باعث شروع ہونے والے احتجاج اب وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں میں بدل چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے احتجاج کو دبانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے، جبکہ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔













