گولڈن گلوب ایوارڈز کی شاندار تقریب میں ہالی ووڈ کے اداکاروں اور فلمی شخصیات کو ان کے کارناموں کے اعتراف میں پہلا اعزاز دیا گیا، اس تقریب کا آغاز اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز سے چند ہفتے قبل ہوتا ہے اور یہ فلمی دنیا کی سنہری تقریبات کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔
جہاں آئرش اداکارہ جیسی بکلے شیکسپیئر پر بننے والی فلم ’ہیمنیٹ‘ میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھانے پر بہترین اداکارہ اور ’دی سیکرٹ ایجنٹ‘ میں مرکزی کردار اداکرنے والے ویگنر مورا بہترین اداکار قرار پائے وہیں ٹیانا ٹیلراوراسٹیلن اسکارسگارڈ نے اس سال کے پہلے ایوارڈز اپنے نام کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ ایکٹر ایوارڈز: ’ون بیٹل آفٹر اینادر‘ اور ’سنرز‘ سرفہرست
اسی طرح پال ٹامس اینڈرسن نے اپنی فلم ’ون بیٹل آفٹر انادر‘ پر بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ اپنے نام کیا، ٹیانا ٹیلرکو فلم ’ون بیٹل آفتر انادر‘ میں ایک انقلابی اور ماں کا کردار ادا کرنے پر بہترین معاون اداکارہ قرار دیا گیا۔
انہوں نے اپنی ’براؤن بہنوں اور چھوٹی براؤن بچیوں‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر اس کمرے میں موجود ہونے کی حقدار ہیں، جہاں ان کے قدم پہنچتے ہیں، ہماری آواز اہمیت رکھتی ہے۔‘
https://Twitter.com/SimonHarrisTD/status/2010611254344524230
’ون بیٹل آفٹر انادر‘ اس سال کے گلوبز میں سب سے زیادہ نامزدگیوں والی فلم رہی، یہ ڈارک کامیڈی ایک ناکام انقلابی کی کہانی بیان کرتی ہے، جس کا کردار لیونارڈو ڈی کیپریو نے ادا کیا ہے، جو اپنی بیٹی کی زندگی کے خطرے میں ہونے پر حرکت میں آتا ہے۔
ٹیانا ٹیلرنے اس فلم میں لیونارڈو کی ساتھی اور بچے کی والدہ کا کردار ادا کیا ہے، دوسری جانب سنیمیٹک اینڈ باکس آفس اچیومنٹ کا گولڈن گلوب ایوارڈ بلیوز موسیقی سے سجی ویمپائر کہانی پر مبنی فلم ’سنرز‘ کے نام رہا۔
مزید پڑھیں: آسکرایوارڈز 2025 کی نامزدگیوں کا اعلان، فہرست میں بہترین فلمیں اور اداکار کون ہیں؟
نارویجین خاندانی ڈرامے ’سینٹی مینٹل ویلیو‘ کے مرکزی کردار 74سالہ اسٹیلن اسکارسگارڈ نے کہا کہ انہوں نے تقریر کی تیاری نہیں کی کیونکہ وہ خود کو بہت بزرگ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں لوگوں پر زور دیا کہ وہ ان کی اور دیگر فلمیں سینما گھروں میں دیکھیں۔ ’سینما میں، آپ دوسروں کے ساتھ جذبات بانٹتے ہیں، یہی جادو ہے۔ سینما کو سینما میں ہی دیکھنا چاہیے۔‘













