پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئے میثاقِ جمہوریت کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو باہمی اشتراک کی دعوت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ازسرِنو تشکیل کا مطالبہ کیا ہے، جس پر تمام فریقین کا اتفاق ہو۔
یہ فیصلہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی ڈائیلاگ اور میثاق کی ضرورت ہے، اعظم نذیر تارڑ
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے بے بنیاد مقدمات فوری طور پر ختم کیے جائیں اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
قرارداد میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے کارکنوں پر لاٹھی چارج اور سندھ حکومت کی طرف سے پارٹی قیادت کے دوروں کے دوران رکاوٹیں کھڑی کرنے کی شدید مذمت کی گئی۔
پارلیمانی پارٹی کے مطابق ملک اس وقت ایک نہایت حساس اور پیچیدہ سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تمام جمہوری قوتوں کو نئے میثاقِ جمہوریت پر متفق ہونا ہوگا۔
قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ الیکشن کمیشن پاکستان کی ایسی تشکیل نو کی جائے جس پر تمام سیاسی فریقین اعتماد کا اظہار کریں، ساتھ ہی شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔
مزید کہا گیا کہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ انصاف اور قانون کے تحت مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کسی کو بغاوت کا حق نہیں، وزیراعظم کی سیاسی جماعتوں کو میثاق استحکام پاکستان میں شمولیت کی دعوت
قرارداد میں پارلیمانی پارٹی نے تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے قائدین کے دورۂ لاہور کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔
اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام امن جرگے کے اعلامیے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے اس پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔














