بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس نے گینگ کلچر اور تشدد کو فروغ دینے والے 67 گانوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو مجرمانہ ماحول سے بچانا اور معاشرتی تحفظ کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔
ڈی جی پی اجے سنگھل کے مطابق یہ کارروائی بڑی مہم کا حصہ ہے جس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی نگرانی اور سخت اقدامات شامل ہیں۔ ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس کا مقصد صرف جرائم روکنا نہیں بلکہ نوجوانوں کو مجرمانہ ماحول میں شامل ہونے سے بچانا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے مواد میں اکثر مجرموں کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ان کے خاندانوں اور متاثرین کے دکھوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
हरियाणा पुलिस की सख्त कार्रवाई 🚨 गैंगस्टर संस्कृति और हथियारों की हिंसक छवि को बढ़ावा देने वाले 67 गीत डिजिटल प्लेटफॉर्म्स से हटाए गए।
युवाओं को भ्रमित करने वाले ऐसे कंटेंट पर अब ज़ीरो टॉलरेंस। सोशल मीडिया पर अपराधियों की पोस्ट को लाइक/शेयर करने वालों पर भी कड़ी नज़र।
समाज… pic.twitter.com/cDlnHgigFY
— Haryana Police (@police_haryana) January 13, 2026
پولیس نے گانوں کے نام ظاہر نہیں کیے لیکن بتایا کہ یہ فیصلہ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اور سائبر کرائم یونٹ کی تحقیقات کے بعد کیا گیا۔ ڈی جی پی نے خبردار کیا کہ مزید سخت اقدامات بھی کیے جائیں گے اور کوئی بھی پلیٹ فارم ایسے مواد کی میزبانی نہیں کرے گا جو مجرمانہ رویے کو فروغ دیتا ہو۔
پولیس کا کہنا تھا کہ نوجوانوں پر ڈیجیٹل مواد کا بڑھتا ہوا اثر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس نے فنکاروں اور مواد بنانے والوں کو تشدد، ہتھیار یا گینگ کلچر کی تعریف کرنے والے مواد سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نصیبو لعل کا گانا اونچی آواز میں چلانے پر رکشہ ڈرائیور کے خلاف مقدمہ، ’سزا کیا ہوگی‘
پولیس کے مطابق گینگسٹر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے پولیس ان کی نگرانی بھی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو تعمیری اور قومی ترقی کے لیے استعمال کریں۔














