موٹروے پر سفر کرنے والے ایک شہری نے پولیس اہلکار کی جانب سے سائیڈ شیشے موجود ہونے کے باوجود 500 روپے کا چالان کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
موٹروے پر سفر کرنے والے ایک شہری نے بتایا کہ ان کی گاڑی کو پولیس نے روکا اور چالان جاری کر دیا جس میں درج تھا کہ گاڑی کے سائیڈ شیشے موجود نہیں ہیں۔ شہری کے مطابق جب انہوں نے اہلکار کو بتایا کہ شیشے موجود ہیں تو پولیس نے ان کی بات نہ سنی اور کہا کہ 700 روپے کا جرمانہ بنتا ہے مگر رعایت کر کے 500 روپے لیا گیا ہے۔
گاڑی پر سفر کر رہا تھا تو موٹروے پولیس نے روک کر چالان کر دیا!!
ہمارے پاکستان میں چالان انگریزی میں ہوتے ہیں تاکہ ان پڑھ مخلوق اسے اچھے سے پڑھ سکے۔۔ڈرائیور چالان لے کر آیا تو میں نے پرچی پڑھی جس پر لکھا تھا سائیڈ شیشہ نہیں ہے، میں چالان پکڑ کر نیچے گیا اور کہا کہ بھائی شیشے موجود… pic.twitter.com/avSWskerTb— Mohammad Hayat (@mofarooka) January 14, 2026
شہری کا کہنا تھا کہ چالان کرنے پر میں نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ سائیڈ شیشے موجود ہیں مگر اس پولیس اہلکار نے بات نہ سنی اور مصروف ہو گیا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایک صارف نے کہا کہ ان کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ آپ نے ایک دن میں اتنے چالان کرنے ہیں اس لیے یہ چالان کرنے کےلیے کوئی نہ کوئی جواز تراش لیتے ہیں۔
ان کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ آپ نے ایک دن میں اتنے چالان کرنے ہیں اس لیے یہ چالان کرنے کےلیے کوئی نہ کوئی جواز تراش لیتے ہیں۔
— Wasi Baloch (@Wasi5232) January 14, 2026
جاوید نامی صارف نے کہا کہ جس اہلکار نے چالان کیا اس کی ثبوت کے ساتھ مکمل ویڈیو بنانی چاہیے تھی تاکہ یہ اہلکار آئندہ کچھ سوچ سمجھ کر چالان کرتا۔
جس وقت جس جگہ جس گاڑی کا جس شیشے کا جس اہلکار نے چالان کیا اس کی ثبوت کے ساتھ مکمل ویڈیو بنانی چاہیے تھی۔
کم از کم یہ اہلکار آئندہ کچھ سوچ سمجھ کر ہی چالان کرتا۔— Engr. Javed JQM (@JavedQMajeed) January 14, 2026
ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ بھی فیصل آباد میں اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ بحث کرنا جرم ہے۔














