وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ان کی وزارت کچھ ایسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن سے نہ صرف ملک میں سبز انقلاب آنے کا امکان ہے بلکہ اس سے پاکستان کی نئی نسل ماحولیاتی بہتری کے منصوبے شروع کر کے اپنا مستقبل بہتر بنا سکتی ہے۔
وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی ماحولیاتی سائنس پر کام کرنے والے نوجوانوں کو نجی طبقے کے ساتھ ملانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت نوجوان ماہرین کی تحقیق اور ماحول بہتر بنانے کے منصوبوں اور ایجادات کو فروغ ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے صحرائے تھر میں سبز انقلاب: مقامی شہریوں اور مویشیوں کے لیے نئی زندگی
اسلام آباد میں حالیہ دنوں میں درختوں کی کٹائی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے تاہم مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے درخت کاٹنے پر جرمانوں میں اضافے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت جو قانون نافذ ہے وہ ایک پرانا قانون ہے، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ جرمانہ صرف 10 لاکھ روپے تک محدود ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین اور سعودی عرب کے تعاون سے دوسرے زرعی انقلاب کا حکومتی منصوبہ کیا ہے؟
’اب آپ خود سوچیں، اگر کوئی ادارہ یا فرد 40 کروڑ روپے کا ماحولیاتی نقصان کر دے، یا کروڑوں روپے کے درخت کاٹ دے، اور بدلے میں صرف 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کر دے، تو یہ کسی صورت انصاف نہیں۔‘













