وفاقی آئینی عدالت میں کرپشن کیس میں رضاکارانہ طور پر واپس کی گئی رقم کی واپسی سے متعلق اپیل پر سماعت کے دوران عدالت نے نیب ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر اہم آبزرویشنز دیتے ہوئے استفسار کیا کہ 8 سال بعد ہونے والی قانون سازی کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر کیسے کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:18ویں آئینی ترمیم رول بیک ہونی چاہییے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل سے دباؤ ڈال کر رضاکارانہ رقم واپس کروائی گئی، اس لیے نیب ترامیم کے تحت وہ رقم واپس کی جانی چاہیے اور کیس قانون کے مطابق چلایا جائے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم حسین اللہ کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں تعینات تھا اور اس پر غیرقانونی لیز کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دورانِ حراست جب ملزم کے عزیز ملاقات کے لیے آئے تو نیب نے ان کی جائیداد بھی گروی رکھوا لی۔
اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کیس 2015 کا ہے جبکہ نیب قانون میں ترمیم 8 سال بعد کی گئی، پھر ان ترامیم کا اطلاق ماضی سے کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پہلے رقم ادا کی گئی اور اب وہی رقم واپس مانگی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ملزم آدھی رقم پہلے ہی ادا کر چکا ہے جبکہ باقی ایک کروڑ 8 لاکھ روپے کے عوض جائیداد گروی رکھی گئی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ جب نیب عدالت نے رضاکارانہ رقم واپسی منظور کی تھی تو اس وقت وہاں اعتراض کیوں نہیں اٹھایا گیا؟
دوران سماعت جسٹس کے کے آغا نے درخواست گزار کے مؤقف پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب معمول کے بہانے ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔














