’ڈیجیٹل نیشن پاکستان 2025‘ مکمل وژن ہے، حکومت 120 ملین بینک اکاؤنٹس اور تمام G2G لین دین کو ڈیجیٹل بنائے گی، خرم شہزاد

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان 2025 محض ایک پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک مکمل وژن ہے، جس کے تحت حکومت پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار قوم میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اس وژن کے تحت شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل شناختیں، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور آسان آن لائن سروسز فراہم کی جائیں گی، جبکہ ڈیٹا پرائیویسی اور جدت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

خرم شہزاد نے یہ بات فِن ٹیک فارورڈ فورم میں 27ویں ITCN ایشیا کے موقع پر ایکسپو سینٹر لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے 99 فیصد سرکاری فائلز اس وقت ای-آفس پلیٹ فارم کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر منتقل کی جا رہی ہیں، جس سے ڈیٹا کے ضائع ہونے یا فیصلوں میں تاخیر کے مسائل ختم ہو گئے ہیں، اور ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: سمندر پار پاکستانیوں نے پروپیگنڈے کو مسترد کرکے ریکارڈ ترسیلات زر بھیجیں، وزیراعظم کا اظہار تشکر

مشیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد 120 ملین بینک اکاؤنٹس قائم کرنا اور تمام G2G لین دین کو 100 فیصد ڈیجیٹل کرنا ہے، جبکہ سال 2026 کے دوران پورے سرکاری نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ PVARA کے ذریعے کرپٹو ہولڈرز کو رسمی ڈیجیٹل معیشت میں شامل کیا جا سکے گا اور ٹیکس مراعات پر بھی کام جاری ہے۔

خورم شہزاد نے بتایا کہ صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دینے کی منصوبہ بندی ہے، جبکہ چھوٹے قرضےSMEs، زراعت اور نوجوانوں کے کاروبار کے لیے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ اس کے علاوہ ہنر مند افراد کے لیے اسکل بانڈز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت کی ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا بنیادی کردار جدت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے معاون پالیسی فریم ورک تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں بااختیار بنانے کے لیے فعال پالیسی سازی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری ہفتے کا شاندار آغاز، انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا

خرم شہزاد نے بتایا کہ کرپٹو اثاثوں کو منظم کرنے کے لیے ایک ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان اس شعبے میں ابتدائی مراحل میں ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر نظام موجود ہے، اور پاکستان بھی عالمی بہترین عملی نمونوں سے سیکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کی پاکستان میں توانائی، معدنیات اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی

کوکین کوئین انمول عرف پنکی نے جب جیل میں من پسند لباس پہننے کی خواہش ظاہر کی تو کیا ہوا؟

ہنر مند نوجوان ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!