پیپلزپارٹی ہر مرتبہ مخالفین پر جبراً قابو پاکر حکومت بنالیتی ہے، سید حفیظ الدین

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سید حفیظ الدین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکومتی جبر کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے اور وہ ہر مرتبہ مختلف اضلاع میں مخالفین کو کنٹرول میں لے کر حکومت بنالیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی: چیئرمین حفیظ الدین سی ای او کے الیکٹرک پر برہم، اجلاس سے نکال دیا

وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال جمہوریت کے لیے نہایت تشویشناک ہے۔

’سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ایم کیو ایم کا کوئی ہاتھ نہیں‘

سید حفیظ الدین نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے کی آج تک مکمل اور شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں جبکہ اس واقعے میں ایم کیو ایم کو بلاوجہ ملوث کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ اسے پاکستان کا سب سے بڑا آتشزدگی کا واقعہ قرار دیتے ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس میں ہوا کیا اور کیسے ہوا جس کی غیرجانبدار انکوائری ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے ٹھوس شواہد عوام کے سامنے رکھے جن سے واضح ہوتا ہے کہ بلدیہ فیکٹری سانحے میں ایم کیو ایم کا کوئی کردار نہیں تھا لیکن پارٹی کو جان بوجھ کر اس گرداب میں پھنسایا گیا۔

مزید پڑھیے: کراچی بلدیہ فیکٹری کیس میں سزائے موت پانے والے رحمان اور زبیر کی سپریم کورٹ میں اپیل

سید حفیظ الدین نے کراچی سے ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت 98 فیصد ٹیکس کراچی سے لیتی ہے جبکہ وفاقی حکومت بھی 65 فیصد ٹیکس اسی شہر سے وصول کرتی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ لالو کھیت (لیاقت آباد) کی ایک کمرشل مارکیٹ لاہور سے زیادہ ٹیکس دیتی ہے اور یہ اعداد و شمار ایف بی آر کی رپورٹ میں موجود ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے سید حفیظ الدین نے کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب نہ پتھراؤ ہوگا اور نہ ہی ہڑتالیں کی جائیں گی بلکہ پرامن اور مہذب انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اس کے باوجود ایم کیو ایم کی بات سنی نہیں جا رہی۔

کراچی ڈیولپمنٹ فنڈز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاق نے حال ہی میں کچھ فنڈز جاری کیے ہیں مگر سندھ حکومت کا مطالبہ ہے کہ ان فنڈز کا استعمال وہ خود کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ جب فنڈز سندھ حکومت کے پاس جاتے ہیں تو ان کا سراغ نہیں ملتا اور کراچی میں ترقی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم ایک صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ دیا جائے اور این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز کا حساب پیش کیا جائے۔

مزید پڑھیں: کراچی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آگ سے میرا یا حماد صدیقی کا کوئی تعلق نہیں، مجرم رحمان بھولا

دیگر سیاسی جماعتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید حفیظ الدین نے کہا کہ بعض جماعتوں کی کوئی واضح سیاسی پوزیشننگ نظر نہیں آتی۔

پی ٹی آئی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ خود ماضی میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہو چکے ہیں تاہم سنہ 2016 میں متعدد وجوہات کی بنا پر انہوں نے پارٹی چھوڑ کر مصطفیٰ کمال کے ساتھ سیاسی سفر شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی کا وہ بدقسمت حلقہ جس کی قسمت 2 وفاقی وزرا بھی نہ بدل سکے

پیپلزپارٹی کو ہرانے کے لیے کسی اتحاد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مستقبل میں کوئی نہ کوئی اتحاد ضرور بن سکتا ہے جو معاملات کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تحریک تحفظ آئین کا پارلیمنٹ میں دھرنا جاری، عمران خان کی صحت کے پیش نظر حکومت سے اہم مطالبات کردیے

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے مطمئن، اس پر سیاست نہیں چاہتے، شیرافضل مروت

پی ٹی آئی قیادت، رشتے دار اور سوشل میڈیا کے جہادی عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے، خواجہ آصف

محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، بانی کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر ہم تباہ ہوگئے، علی امین گنڈاپور

ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

ویڈیو

عمران خان کے علاج پر کون سنجیدہ نہیں تھا؟ علیمہ خان کے خلاف چارج شیٹ

بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، علاج کی ہر سہولت دی جا رہی ہے، محسن نقوی

سینٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس کی عمران خان سے آج ملاقات کا امکان، قیادت اڈیالہ جیل روانہ

کالم / تجزیہ

سڑکیں بند کرنا کون سا احتجاج ہے؟

سعودی یومِ تاسیس: تاریخی بنیاد، معاصر سمت

پاکستان، انڈیا میچ اور سیاسی گرما گرمی