پاکستان کی سینیٹ نے اسلام آباد میں کام کرنے والی آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک اہم بل منظور کر لیا ہے، جو اس شعبے کو قانونی فریم ورک فراہم کرے گا۔
یہ بل، جسے 21 جنوری 2026 کو منظور کیا گیا، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کام کرنے والی کمپنیوں جیسے اوبر، کریم اور بائیکیا کو لازمی قرار دیتا ہے کہ وہ متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی سے آفیشل سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔
یہ بھی پڑھیے: ’ٹپ دیے بغیر گاڑی سے باہر نہیں جا سکتی‘، خاتون ٹیکسی ڈرائیور کا مسافر سے عجیب مطالبہ، ویڈیو وائرل
واضح رہے کہ اس کے تحت ڈرائیورز کو بھی رجسٹریشن کروانی ہوگی، جس میں ان کی ڈرائیونگ لائسنس کی توثیق، کریمنل ریکارڈ کی چیکنگ اور خصوصی اجازت (رائیڈ ہیلنگ پرمٹ) شامل ہے۔ جو عام ڈرائیونگ لائسنس کے علاوہ الگ سے حاصل کرنا ہوگا۔
بغیر رجسٹریشن کے کوئی بھی کمپنی یا ڈرائیور اسلام آباد میں سروس چلا نہیں سکے گا، یہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، گاڑیوں کو سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا، اور صرف 10 سال سے کم پرانی گاڑیاں استعمال کی جا سکیں گی۔ اور سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے ساتھ ساتھ انشورنس کی بھی لازمیت ہے تاکہ حادثات کی صورت میں مسافروں کی حفاظت یقینی ہو۔
یہ بھی پڑھیے: لندن کی پہلی الیکٹرک ایئر ٹیکسی سروس کا آغاز کب ہوگا؟
اس قانون کا مقصد مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا، انشورنس کی فراہمی اور غیر قانونی آپریشنز کو روکنا ہے، جس سے صارفین کو محفوظ اور معیاری سروس مل سکے گی۔
اس نئی قانون سازی سے رائیڈ ہیلنگ انڈسٹری میں بہتری آئے گی، کیونکہ اب کمپنیاں مسافروں کی شکایات کے لیے ایک مؤثر میکانزم قائم کرنے کی پابند ہوں گی اور خلاف ورزی پر جرمانے اور سزائیں بھی متعارف کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ دے گا اور غیر ریگولیٹڈ مارکیٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل جیسے زیادہ کرایہ، حفاظتی خدشات اور ڈرائیورز کی استحصال کو کم کرے گا۔ ابھی تو یہ قانون صرف اسلام آباد پر لاگو ہے، لیکن اسے ملک کے دیگر علاقوں میں توسیع دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
اس سے ہزاروں ڈرائیورز اور لاکھوں صارفین کو فائدہ پہنچے گا، جو روزانہ ان سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو جدید اور محفوظ بنانے کی جانب ایک مثبت اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سندھ حکومت کا پہلی سرکاری ٹیکسی سروس کے آغاز کا فیصلہ
ان ڈرائیو کمپنی میں کام کرنے والے ایک عہدیدار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بل ایک مثبت اور ضروری قدم ہے جو رائیڈ ہیلنگ سیکٹر کو منظم کر کے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔ سخت رجسٹریشن، خصوصی پرمٹ، گاڑیوں کی عمر کی حد (10 سال سے کم) اور سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ جیسے اقدامات غیر قانونی آپریشنز، زیادہ کرایہ اور حفاظتی مسائل کو کم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ کہ کمپنی شکایات کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی اچھی خاصی شکایات کا انبار رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم کمپنیوں (جیسے یانگو، اوبر) کو احتساب کا پابند بنا کر ایک سطحی میدان فراہم کرے گا۔ تاہم، ابتدائی طور پر عمل درآمد میں چیلنجز آ سکتے ہیں، جیسے ڈرائیورز کی رجسٹریشن کا عمل سست ہونا یا کمپنیوں پر اضافی لاگت کا بوجھ، لیکن طویل مدت میں یہ سیکٹر کی ترقی اور صارفین کے اعتماد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
آن لائن کیب سروس سے منسلک ڈرائیور محمد عثمان جاوید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ قدم اس لیے بہت اچھا ہے کیونکہ اس سے غیر اخلاقی حرکتیں کرنے والے ڈرائیورز کی نہ صرف پکڑ ہوگی بلکہ ان کو سزائیں بھی دی جائیں گی۔ اس سے رائیڈ ہیلنگ سروسز استعمال کرنے والے صارفین خصوصا خواتین کو تحفظ ملے گا۔ اس کے علاوہ یہ قانون ڈرائیورز کے لیے کچھ فوائد لائے گا جیسے رسمی رجسٹریشن سے قانونی تحفظ اور بہتر انشورنس وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیے: ’اوبر‘ کے بعد مقبول ترین رائیڈنگ سروس نے پاکستان میں کاروبار بند کردیا
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض اوقات کچھ سواریاں بھی حد سے زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ ڈرائیور کھانسی بھی کر دے تو انہیں مسئلہ ہوجاتا ہے اور وہ کمپلینٹ کر دیتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب یہ بہت سخت بھی ہے۔ خصوصی پرمٹ، کریمنل چیک، گاڑیوں کی عمر کی پابندی اور کمپنیوں کو ڈیٹا شیئر کرنے کی شرط سے بہت سے ڈرائیورز متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ جو پرانی گاڑیاں چلاتے ہیں یا کم آمدنی والے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون ممکنہ طور پر کچھ ڈرائیورز کو مارکیٹ سے باہر کر دے گا اور کرایوں میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اگر عمل درآمد شفاف اور آسان نہ ہوا تو یہ ڈرائیورز کے استحصال کو بڑھا سکتا ہے بجائے کم کرنے کے۔ مجموعی طور پر، حفاظت کے لیے اچھا ہے مگر ڈرائیورز کی آواز کو شامل کر کے مزید متوازن بنانا چاہیے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر رائیڈ ہیلنگ سروسز سے متعلق ہر کچھ عرصے بعد ایک نیا کیس یا واقعہ سامنے آ جاتا ہے، چاہے وہ ہراسمنٹ ہو، زیادہ کرایہ کا مسئلہ ہو، یا حفاظتی خدشات۔ یہ انفرادی کہانیاں اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوتی ہیں، جس سے لگتا ہے کہ ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں اور عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین مسافروں کی شکایات اکثر زیر بحث آتی ہیں، جو سوشل میڈیا پر شیئر ہو کر توجہ حاصل کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹویوٹا کی گاڑی 25 لاکھ روپے تک سستی کیوں ہوئی؟ وجہ سامنے آگئی
مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کیسز کی مجموعی تعداد سالانہ بنیادوں پر کتنی ہوتی ہے، اس کے کوئی مرکزی اور آفیشل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ محدود غیر سرکاری ذرائع (جیسے NGOs یا ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ہیئر لائن رپورٹس) میں صرف چند درجن کیسز کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ مکمل تصویر نہیں دکھاتے۔
نئی قانون سازی (اسلام آباد رائیڈ ہیلنگ ریگولیشن بل) کے بعد امید ہے کہ کمپنیاں اور اتھارٹی ڈیٹا جمع کر کے سالانہ رپورٹس جاری کریں گی، مگر فی الحال یہ خلا موجود ہے جو شفافیت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر نظر آنے والے واقعات توجہ تو کھینچتے ہیں، لیکن ان کیسز کی اصل تعداد اور رجحان کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔














