نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پروسومر ریگولیشنز 2025 کے تحت سولر، ونڈ اور بایوگیس سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے نئے مجوزہ قوانین پر عوامی سماعت کی ہے۔ یہ قوانین ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں مہنگی بجلی کے باعث گھریلو اور صنعتی سطح پر سولر سسٹمز لگانے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عوامی سماعت میں پیش کی گئی تجاویز نے توانائی کے شعبے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مجوزہ ریگولیشنز میں کیا تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں؟
مجوزہ قوانین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے نظام میں تبدیلی کی جا رہی ہے، جس کے تحت سولر صارفین سے خریدی جانے والی بجلی کے نرخ کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سولر صارفین کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کی مدت سات سال کے بجائے 5 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تکنیکی اور حفاظتی شرائط کو بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سولر پینلز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟
یہ تبدیلیاں نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جہاں اضافی بجلی کی ادائیگی قومی اوسط انرجی پرچیز پرائس، یعنی تقریباً 13 روپے فی یونٹ، پر کی جائے گی۔
حکومتی مؤقف اور سولر کے بڑھتے رجحانات
حکومت اور بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ چونکہ سولر صارفین گرڈ سے کم بجلی لیتے ہیں، اس لیے بجلی کے مقررہ اخراجات عام صارفین پر منتقل ہو رہے ہیں، جس سے نان سولر صارفین کے بلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے نیٹ میٹرنگ نظام میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ سولر پینلز کی درآمد بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صارفین کو متبادل توانائی کی طرف جانے پر مجبور کیا ہے۔
ماہرین کے تحفظات اور سرمایہ کاری کا مستقبل
سولر صارفین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ قوانین ماضی سے لاگو کیے گئے تو انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ نیٹ میٹرنگ ریٹس میں کمی اور معاہدوں کی مدت کم ہونے سے سولر سسٹمز پر کی گئی سرمایہ کاری کی واپسی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟
سولر توانائی کے ماہر انجینیئر نور بادشاہ کے مطابق اگر پالیسی میں اچانک تبدیلی کی گئی تو اس سے سولر صارفین کا اعتماد متاثر ہوگا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ نئی ریگولیشنز کا اطلاق صرف نئے صارفین پر کیا جائے۔
سولر انڈسٹری کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی بحران شدید ہے، سولر انرجی کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے، ورنہ سرمایہ کاری رک سکتی ہے۔

سولر انسٹالیشن انڈسٹری سے وابستہ گل باز خان کے مطابق نیپرا کو ایسا متوازن حل نکالنا ہوگا جس سے عام صارف پر بوجھ بھی کم ہو اور سولر صارفین کی حوصلہ افزائی بھی برقرار رہے، کیونکہ پائیدار توانائی کے بغیر پاکستان کا مستقبل محفوظ نہیں۔














