پاکستانی معاشرے میں باڈی شیمنگ کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ منفی رویہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ مین اسٹریم میڈیا، خصوصاً ٹی وی چینلز اور تفریحی پروگراموں میں بھی کھل کر نظر آ رہا ہے، جہاں ایسے مواد کو لائیو نشر کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں معروف ٹی وی میزبان فہد مصطفیٰ کے ایک شو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے چند موٹی خواتین کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ شو کے دوران یہ کہا گیا کہ ان میں سے جس خاتون کا وزن زیادہ ہوگا اسے انعام دیا جائے گا۔ جب سب سے زیادہ وزن والی خاتون اسٹیج پر آئیں تو میزبان کی جانب سے یہ جملہ کہا گیا کہ اب تو وزن کرنے والی مشین بھی ٹوٹ جائے گی۔ اس تبصرے کو ناظرین کی بڑی تعداد نے توہین آمیز اور غیر مناسب قرار دیا۔
Pakistan is the only country which is reverse bodyshaming 😭😹 pic.twitter.com/gccbYaNm9U
— Sachya (@sachya2002) February 8, 2026
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک بنتا جا رہا ہے جہاں باڈی شیمنگ کو تفریح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ کیا میڈیا کا کام معاشرتی شعور اجاگر کرنا نہیں، بجائے اس کے کہ وہ لوگوں کی تضحیک کو فروغ دے۔
رانا نامی صارف نے کہا کہ یہ پاکستان کا سب سے مشہور ٹی وی شو ہے اور اس میں یہ سب ہو رہا ہے جبکہ ایک صارف نے کہا کہ یہ کس قسم کا شو ہے؟ وسیم خان نامی صارف نے کہا کہ فہد مصطفیٰ صرف ایک معمولی درجے کی موٹر سائیکل کے لیے لوگوں کو ذلیل کر رہا ہے جو کہ نہایت شرمناک عمل ہے۔
He embarrassing people just for a low grade bike ..shameful act 😤#jeetopakistan #WorldCup2026 #8th_February #Pakistan https://t.co/YrL6xWmeRQ
— Waseem Khan (@WaseemKh_999) February 8, 2026
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیا شخصیات اور اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور رویوں میں احتیاط برتیں اور ایسا مواد نشر کرنے سے گریز کریں جو معاشرے میں نفرت، تمسخر یا احساسِ کمتری کو فروغ دے۔














