کیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟

منگل 10 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی کے عمل میں تیزی آتی دکھائی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟

وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کے حالیہ بیان اور سینیئر صحافیوں کے تجزیوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ سیاسی ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے اور حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنے لگی ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ جمعرات تک پی ٹی آئی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہو جائے۔

دوسری جانب انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بھی قائم کی ہے اور مذاکرات کسی بھی وقت شروع ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اب اسلام آباد کی جانب کوئی مارچ نہیں کیا جائے گا اور بانی چیرئین عمران خان کی جانب سے بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کال نہیں دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی کنٹینر اسلام آباد آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا

وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان اڈیالہ جیل میں ملاقات جلد متوقع ہے جو ممکنہ طور پر ایک یا 2 ہفتوں میں ہو سکتی ہے اور یہ ملاقات وزیر اعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات سے بھی پہلے ہو جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پہلے ہی طے کر دی ہیں جن میں کسی غیر آئینی مطالبے کو قبول نہ کرنا شامل ہے۔

اختیار ولی خان کے مطابق اگر مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو نئے انتخابات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا اور پی ٹی آئی سے بات چیت آئین و قانون کے دائرے میں ہی ہوگی۔

سینیئر صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان برف کافی حد تک پگھل چکی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگلے ہفتے یا رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

لحاظ علی کے مطابق اس اعتماد سازی میں 2 اہم شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا جن میں بیرسٹر محمد علی اور صوبائی کابینہ کے ایک اہم وزیر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان روابط کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ صوبائی حکومت اور ادارے مل کر کام کریں گے، احتجاج پرامن ہوگا اور فوجی آپریشنز سے متعلق قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

اب کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ وزیراعلیٰ بیانات میں سخت لہجہ رکھ سکتے ہیں تاہم عملی طور پر کسی تصادم کی طرف نہیں جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز

اسی پس منظر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 8 فروری کے شٹر ڈاؤن احتجاج میں منظرِ عام سے غائب رہنا بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا۔

وزیراعلیٰ کی آفیشل میڈیا ٹیم یا پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی تاہم پارٹی کے سوشل میڈیا سے وابستہ ایک رہنما نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔

سینیئر صحافی و تجزیہ کار عارف حیات کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وفاقی حکومت اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا اظہار وزیراعظم سے ملاقات، اپیکس کمیٹی کے اجلاس اور کور کمانڈر پشاور سے روابط سے ہوتا ہے۔

عارف حیات کے مطابق یہ تمام پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کچھ معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور کچھ طاقتور حلقے بھی نرم مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ہڑتال کی ناکامی پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ ثابت ہوئی، عوام نے انتشار کی سیاست مسترد کردی، وفاقی وزرا

ان کا کہنا ہے کہ احتجاج میں عدم شرکت بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہلی یونیورسٹی میں اختلاف کی قیمت؟ ایک واقعہ، کئی سوالات

ریاض: صحرائے الدہنا میں 10 ہزار درخت لگانے کا منصوبہ شروع

آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ: اگر پاک بھارت میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تو کیا ہوگا؟

ٹی 20 ورلڈ کپ: کراچی میں پاکستان بھارت میچ کے لیے کن مقامات پر اسکرینیں لگائی جائیں گی؟

افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟