حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی کے عمل میں تیزی آتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟
وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کے حالیہ بیان اور سینیئر صحافیوں کے تجزیوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ سیاسی ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے اور حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنے لگی ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے اور ہو سکتا ہے کہ جمعرات تک پی ٹی آئی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہو جائے۔
دوسری جانب انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بھی قائم کی ہے اور مذاکرات کسی بھی وقت شروع ہو سکتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اب اسلام آباد کی جانب کوئی مارچ نہیں کیا جائے گا اور بانی چیرئین عمران خان کی جانب سے بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کال نہیں دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی کنٹینر اسلام آباد آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان اڈیالہ جیل میں ملاقات جلد متوقع ہے جو ممکنہ طور پر ایک یا 2 ہفتوں میں ہو سکتی ہے اور یہ ملاقات وزیر اعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات سے بھی پہلے ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پہلے ہی طے کر دی ہیں جن میں کسی غیر آئینی مطالبے کو قبول نہ کرنا شامل ہے۔
اختیار ولی خان کے مطابق اگر مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو نئے انتخابات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا اور پی ٹی آئی سے بات چیت آئین و قانون کے دائرے میں ہی ہوگی۔
سینیئر صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان برف کافی حد تک پگھل چکی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگلے ہفتے یا رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں گے۔
لحاظ علی کے مطابق اس اعتماد سازی میں 2 اہم شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا جن میں بیرسٹر محمد علی اور صوبائی کابینہ کے ایک اہم وزیر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان روابط کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ صوبائی حکومت اور ادارے مل کر کام کریں گے، احتجاج پرامن ہوگا اور فوجی آپریشنز سے متعلق قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
اب کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ وزیراعلیٰ بیانات میں سخت لہجہ رکھ سکتے ہیں تاہم عملی طور پر کسی تصادم کی طرف نہیں جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج میں اب اجتماعی استخارہ ہوگا، شیرافضل مروت کا طنز
اسی پس منظر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 8 فروری کے شٹر ڈاؤن احتجاج میں منظرِ عام سے غائب رہنا بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا۔
وزیراعلیٰ کی آفیشل میڈیا ٹیم یا پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی تاہم پارٹی کے سوشل میڈیا سے وابستہ ایک رہنما نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار عارف حیات کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی وفاقی حکومت اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا اظہار وزیراعظم سے ملاقات، اپیکس کمیٹی کے اجلاس اور کور کمانڈر پشاور سے روابط سے ہوتا ہے۔
عارف حیات کے مطابق یہ تمام پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کچھ معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور کچھ طاقتور حلقے بھی نرم مؤقف اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہڑتال کی ناکامی پی ٹی آئی کے جعلی بیانیے کا جنازہ ثابت ہوئی، عوام نے انتشار کی سیاست مسترد کردی، وفاقی وزرا
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج میں عدم شرکت بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔














