خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ پر طالبات کو اپنے دفتر میں بلانے پر پابندی

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں مرد اساتذہ کی طالبات سے اپنے دفاتر میں براہ راست ملاقات پر پابندی عائد کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیمی نظام کو 4 دہائیاں دینے والی خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون وائس چانسلر نورجہاں

اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں کو ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم کے جاری کردہ خط کے مطابق ہر شعبے میں ایک خاتون فیکلٹی ممبر کو نامزد کیا جائے گا جو طالبات کے مسائل اور شکایات سنیں گی اور ان کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کریں گی۔

مراسلے میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ تمام جامعات سال میں کم از کم ہر 3 ماہ میں ایک سیمینار کا انعقاد کریں جس میں طالبات کو ہراسمنٹ سے تحفظ کے قانون اور ان کے حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے۔

مزید پڑھیے: جنوبی وزیرستان میں 90 فیصد سرکاری اسکول بند

محکمہ اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تعلیمی اداروں میں محفوظ اور باوقار ماحول اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp