بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: جماعت اسلامی اور بی این پی میں مقابلہ سخت، کون جیتے گا، کوئی نہیں جانتا

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں آج ملک کی سیاست کے منظرنامے میں اہم تبدیلی کے بعد پہلے عام انتخابات ہو رہے ہیں۔

الجزیرہ نے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی مذہبی اور قدامت پسند پارٹی ملک کی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہی ہے، جو طویل عرصے تک عوامی لیگ (Awami League) اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) کے زیر اثر تھی۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ کئی سالوں بعد انہیں مقابلہ جاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے، اور وہ تبدیلی کی امید کے ساتھ ووٹنگ کر رہے ہیں۔

شیخ حسینہ کی قیادت والی پچھلی حکومت کے دوران جماعت اسلامی کو دہائیوں تک انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا۔ اس دوران پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کوپھانسی دے دی گئی یا انہیں جیل میں بند کردیا گیا یا پھر لاپتہ کردیے گئے۔ جماعت کی جڑیں 1940 کی دہائی میں بھارت میں قائم ایک پان اسلامسٹ تحریک تک جاتی ہیں۔

حریف حلقوں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اب بھی ایک اسلامی ریاست چاہتی ہے، لیکن جماعت خود دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا سیاسی پروگرام بنگلہ دیش کے سیکولر نظام کے دائرے میں ہے۔

2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریک نے حسینہ کو بھارت بھجوا دیا اور عبوری حکومت نے جماعت پر عائد پابندیاں ختم کر دی۔ اب جماعت اسلامی سیاسی میدان میں قدم جما رہی ہے۔

اگرچہ جماعت کے ناقدین اس پر خواتین کے حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں، لیکن بعض شہریوں کا خیال ہے کہ یہ پارٹی انتہا پسندی کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ اس کے ڈھانچے میں خواتین بھی سرگرم ہیں اور پارٹی کی تنظیم بندی مستحکم ہے۔

عوامی لیگ کے میدان سے باہر ہونے کے بعد، جماعت اسلامی خود کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا اہم حریف ثابت کر رہی ہے۔ موجودہ سروے اور پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہے، اس لیے انتخابات کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟